سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 430
430 سبیل الرشاد جلد دوم شناخت کیا۔اور اس یقین پر قائم ہوا کہ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ خدا تعالیٰ کا پیار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔اور اگر چلے گا تو وہ خدا تعالیٰ سے سب کچھ ہی پالیتا ہے۔جتنی اُس کی جھولی ہو گی اتنی وہ بھر دی جائے گی۔اب اگر آپ ان کی یہ غلط فہمی دور کر دیں کہ نبی اس معنی میں جس معنی میں وہ نبی مانتے ہیں اور ہم بھی نبی مانتے ہیں یعنی خالص نبی۔امتی کی صفت ساتھ ملائے بغیر تو وہ بات ان کی اور ہماری ٹھیک ہے۔لیکن اگر ہم وہ مانتے ہی نہیں اور ہم پہ خواہ مخواہ ایک الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم امتی نبی نہیں مانتے بلکہ نبی مانتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہے۔کیا کوئی اور نبی بھی آسکتا ہے دوسرے ویسے نبوت موہتی ہے۔یعنی شکل یہ بنتی ہے کہ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ کسی کو موہبت نبوت اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک تیرے وجود میں اس کی کامل فنا نہ ہو۔اسی واسطے ایک سوال یہ بھی کیا گیا اور کیا جا سکتا ہے کہ کیا کوئی اور نبی بھی آسکتا ہے ؟ تو امت محمدیہ میں ، جب ہم نے یہ تعریف کر دی تو صرف وہ امتی نبی آ سکتا ہے جس کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمّت کو دی ہو اُس کے علاوہ نہیں آ سکتا۔تو جب سوال کیا گیا تو میں نے یہ جواب دیا کہ ہمارے نزدیک امت محمدیہ میں صرف وہ نبی ہو سکتا ہے جو آپ کی کامل اتباع کرنے والا ہوا ور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے آنے کی خبر دی ہو۔اور ہمارے علم کے مطابق صرف ایک کی خبر دی ہے۔اگر آپ کے علم کے مطابق اور ہوں تو مان لینا اُن کو۔لیکن بہر حال ہمیں تو ایک ہی کی خبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی اہمیت یعنی یہ یقینی بات ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کے چھوٹے سے چھوٹا روحانی درجہ بھی نہیں حاصل کیا جاسکتا۔یہ ہمیں تب پتہ لگتا ہے جب ہم قرآن کریم کے مقام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو سمجھنے لگ جائیں۔اب مثلاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام یہ ہے کہ قرآن کریم کے علاوہ آپ کی زندگی کا کوئی پہلو قرآن کریم کو چھوڑتے ہوئے یا قرآن کریم کے مخالف اور متضاد ہے ہی نہیں إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى جو وحی ہوتی ہے میں صرف اس کی اتباع کرتا ہوں۔اور اس بات کو تفصیل سے کئی جگہ پر بیان کیا۔تو جو وحی ہوئی اس کی اتباع کرنے والے کے متعلق ہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ خُلق کیا تھے۔سوره آل عمران آیت ۳۲ سوره یونس آیت ۱۶