سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 23 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 23

23 سبیل الرشاد جلد دوم صلی اللہ علیہ وسلم پر آسمان سے فرشتے نازل ہو کر مصیبت کے وقتوں میں انہیں یہ کہتے رہے کہ مایوس نہ ہونا ہم تمہارے ساتھ ہیں۔اسی طرح صحابہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر فرشتے نازل ہوتے تھے اور کہتے تھے۔تمہیں کیا خوف اور تمہیں کیا غم تمہارے ساتھ تو خدا ہے اور خدا تعالیٰ نے یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ وہ تمہارے ساتھ ہے تمہارے پاس فرشتوں کی ایک فوج بھیج دی ہے۔جن لوگوں پر فرشتے نازل ہوتے ہیں ان سے مکالمہ مخاطبہ، رؤیا اور کشوف کا ایک سلسلہ جاری ہو جاتا ہے۔صحابہ کرام پر مکالمہ ومخاطبہ اور رؤیا اور کشوف کا سلسلہ بڑی کثرت سے جاری تھا۔لیکن انہوں نے اپنے مقام کو بھی سمجھا ہوا تھا۔وہ ان چیزوں کو اس وقت تک ظاہر نہیں کرتے تھے جب تک اسلام کا اس میں فائدہ نہ دیکھیں چنانچہ حضرت عمرؓ جیسے انسان کے متعلق صرف تین یا چار ایسی باتیں احادیث میں آتی ہیں۔ممکن ہے کہ ایک آدھ اور بات بھی کتب میں مل جائے۔لیکن عام طور پر تین یا چار باتیں ہی ہیں جن کا کتب میں ذکر آتا ہے اور وہ ساری کی ساری وہ ہیں جن کا اُس وقت ساری قوم اور امت مسلمہ سے تعلق تھا۔ایک دفعہ آپ نے ایک مہم پر ایک فوج بھجوائی۔خطبہ جمعہ کے وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس فوج کا نظارہ دکھایا۔اس فوج کا کمانڈر غلطی کر رہا تھا۔آپ نے فرمایا پہاڑ کی طرف پہاڑ کی طرف۔لوگ حیران تھے کہ انہیں کیا ہو گیا ہے۔خطبہ پڑھ رہے ہیں اور کمانڈر کا نام لے کر کہتے ہیں کہ پہاڑ کی طرف جاؤ ، پہاڑ کی طرف جاؤ۔بعد میں آکر اس کمانڈر نے بیان کیا کہ میں غلطی کر رہا تھا۔مجھے آسمان سے یہ آواز آئی کہ پہاڑ کی طرف جاؤ۔پہاڑ کی طرف جاؤ۔تب ہم ادھر ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس طرف ہمیں فتح دی۔لیکن چونکہ یہ بزرگ اپنے اس تعلق قرب کا اظہار لوگوں میں کرنا پسند نہیں کرتے تھے (جیسا کہ آگے جا کر میں ذرا تفصیل سے بیان کروں گا ) سوائے اس کے کہ ایسی باتوں کا بتایا جانا قومی مصالح کے پیش نظر ضروری ہو۔اس لئے ایسے واقعات کا ذکر کتب میں کم پایا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام پر فرشتوں کا بڑی کثرت سے نزول ہوا کرتا تھا۔وہ انہیں بشارتیں دیتے تھے۔وہ وحی والہام کے ذریعہ سے ان کے دلوں کو تقویت پہنچاتے تھے۔وہ لوگ فرشتوں کے ذریعہ سے سچے رؤیا اور کشوف دیکھنے والے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ میں بھی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بشارت دی تھی۔بڑی کثرت سے ایسے لوگ پائے جاتے تھے اور میں سمجھتا ہوں کہ اب