سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 393
سبیل الرشاد جلد دوم 393 سیدنا حضرت خلیفہ امسح الثالث رحم اللہ تعالی کا انتقامی خطاب فرموده ۱/۲۸ خاء۱۳۵۸اهش ۲۸ اکتوبر ۱۹۷۹ء بمقام احاطہ دفا تر مجلس انصاراللہ مرکز یہ ربوہ ) سالانہ اجتماع مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے موقع پر مورخه ۲۸ را خاء ۱۳۵۸اهش ( ۲۸ را کتوبر ۱۹۷۹ء) سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے جو اختتامی خطاب فرمایا۔اس کا مکمل متن ذیل میں درج ہے۔تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: سورہ انفال کی پانچویں آیت یوں ہے - اوتيك هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ دَرَجتْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِیم اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مذکورہ بالا صفات رکھنے والے جن کا ذکر پہلی چار آیات میں آیا ہے۔سچے مومن ہیں۔ان کے رب کے پاس ان کے لئے بڑے بڑے مدارج، بخشش کا سامان اور معزز رزق ہے۔اس سے ہمیں پتہ لگا کہ مومن دو قسم کے ہیں قرآنی اصطلاح میں۔ایک وہ جنہیں اس آیت میں الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا کہا گیا ہے۔سچے مومن۔ایک وہ مومن ہیں جو مومن تو ہیں مگر ان کے لئے قرآن کریم نے سچے مومن کا لفظ استعمال نہیں کیا لفظ نہ معناً۔اس آیت میں سچے مومنوں کے لئے تین وعدے دیئے گئے ہیں۔ایک یہ کہ اللہ کے حضوران کے درجات ہیں۔درجات کے متعلق قرآن کریم نے دوسرے مقامات پر تفصیل سے بیان کیا ہے۔مثلاً ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بچے مومن وہ ہیں جو علم حقیقی رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ رفیع الدرجات ہیں۔اور ایک دوسری جگہ فرمایا ہر شخص، ہر قوم کے لئے اس کے اعمال کے مطابق اللہ تعالیٰ نے درجات مقرر کئے ہوئے ہیں۔بخشش کا سامان جو یہاں کہا گیا، قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ بخشش کے تین بنیادی سامان ہیں۔ایک تو دعا ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو انسان جذب کرنے کی کوشش کرتا ہے اور پاتا ہے اور یہ تمام دوسرے سامانوں کی بنیاد ہے۔دوسرے ہجرت ہے۔یعنی ہوائے نفس کی یلغار سے بچنا اور دنیا کی