سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 22
سبیل الرشاد جلد دوم 22 بار بار اس کا مقابلہ کیا۔اور تم میری خاطر شیطان سے ساری عمر جنگ کرتے رہے۔تو اب میں بھی بطور رحیم خدا کے اپنا فضل تم پر بار بار کرتا چلا جاؤں گا۔اور میری یہ مہمانی کبھی ختم نہیں ہوگی۔یہ وہ مقام ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے اللہ تعالیٰ کے فضل اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض کے طفیل حاصل کیا اور یہ وہ مقام ہے جو امت محمدیہ میں ہزاروں لاکھوں انسان گزشتہ چودہ سوسال میں حاصل کرتے رہے۔اور یہ وہ مقام ہے کہ جب مسلمان اپنے خدا کو اور اپنے رسول کو ، اپنے قرآن کو بھول گئے اور انہوں نے قرآن کو مہجور کے طور پر بنا دیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دنیا میں مبعوث فرمایا اور ان رحمتوں اور ان فیوض کے دروازے از سر نو کھول دیئے۔جن فیوض اور رحمتوں کو ہمارے پیارے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی طرف لے کر آئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ سے بھی یہی وعدہ کیا کہ جو لوگ تیری آواز پر لبیک کہتے ہوئے اسلام کی حقیقت کو سمجھنے اور قرآن کریم کا عرفان حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اور پھر اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالیں گے تو اسی کے مطابق ان سے سلوک کیا جائے گا۔جیسا کہ صحابہ سے سلوک کیا گیا تھا کیونکہ وہ بھی مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِینَ کی تصویر تھے۔سو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے جو تمنا کی اور ان کا جوا رادہ اور خواہش تھی۔وہ دَعَا الى الله “ کی ہی خواہش تھی۔ماتدعون وہ خدا کی طرف بلانے والے تھے۔خالص تو حید کو قائم کرنے والے تھے۔اور مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَعَمِلَ صَالِحاً ان کے نفس میں جو خواہش پیدا ہوتی تھی وہ یہی تھی کہ ایسا عمل کریں جو خدا تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ہو۔اور جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہمیں حاصل ہو جائے۔اور ان کا مقام یہ تھا کہ ہم نے اپنی گردنیں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اور بغیر کسی ریزرویشن (Reservation) کے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکا دی ہیں۔جس طرح وہ چاہے ہم سے سلوک کرے ہم نے اپنے مقامِ عبودیت کا عرفان حاصل کر لیا ہے۔اب ہمارا کوئی مطالبہ نہیں۔ہم خدا کے تھے اور آج ہم علی وجہ البصیرت کہتے ہیں۔کہ ہم خدا کے ہیں، خدا کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔جس حالت میں اور جس طور پر اس دنیا میں یا اُخروی زندگی میں وہ ہمیں رکھے۔ہم اس کی رضا پر راضی رہیں گے۔یہ مقام جیسا کہ صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاصل کیا اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والوں نے بھی حاصل کیا۔اور اس کے نتیجہ میں جیسا کہ صحابہ نبی اکرم