سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 386 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 386

386 سبیل الرشاد جلد دوم اور اب ان کا رد عمل بڑا عجیب ہے۔اگر ہم نے دعوت دی ہوتی تو تم کہتے کہ نہیں مانتے لیکن تم نے دعوت دی اور ہم نے مان لی اور خوشی سے مانی اور ہم نے کہا کہ پیار اور محبت کی فضا میں تبادلہ خیال ہونا چاہئے تا کہ دنیا پر حقیقت آشکار ہو اور جب ہم نے اسے مان لیا تو تم نے بہانے کرنے شروع کر دیئے۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ چلے گا نہیں کسی نہ کسی وقت عیسائی دنیا اپنے پادریوں کو مجبور کرے گی کہ وہ مذاکرہ کریں۔انشاء اللہ ! غرض یہ ایک بہت بڑا کام ہے جس کے کرنے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا کی ہے اور اگلی صدی کے استقبال کا جو منصوبہ ہے اس کے لئے تیار کیا ہے اور عیسائی دنیا کو پکڑ کر جھنجوڑا ہے۔سویڈن میں سٹاک ہام میں ایک پریس کا نفرنس میں مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا اس قبر کو کھود کر اس کی تحقیق ہونی چاہئے ؟ میں نے کہا ہونی چاہئے۔کہنے لگے کہ ہوئی یا نہیں ؟ میں نے کہا نہیں ہوئی۔کہنے لگے کہ ہم نے تو ایک مضمون شائع کر دیا ہے جس میں کسی کے حوالے سے یہ لکھ دیا ہے کہ اس کی تحقیق ہوئی ہے۔میں نے کہا آپ نے غلط لکھ دیا ہے۔سویڈن کے ایک اور شہر مالمو میں بھی ہماری جماعت ہے۔میں سٹاک ہام سے گوٹن برگ آیا جہاں ہماری ( بیت ) ہے وہاں سے ڈنمارک جاتے ہوئے رستہ میں مالمو آتا ہے۔وہاں میں دو تین گھنٹے کے لئے ٹھہرا تو اتفاقا وہاں وہی شخص مل گئے جن کا مضمون چھپا تھا۔وہ سویڈن کے مانے ہوئے محقق ہیں۔میں نے ان کو کہا کہ یہ کیا آپ نے غلط بات لکھ دی۔انہوں نے کہا میں اس کا ذمہ دار نہیں مجھے ایک کشمیری نے بتایا تھا اور میں یونہی بے خیالی میں لکھ گیا کہ قبر کھودی گئی اور اس کی تحقیق ہوئی۔پُرانے زمانے میں دستور تھا اور مسلمانوں کی بعض قبریں ایسی ہیں کہ اصل جگہ جہاں دفنا یا جا تا تھا اس کے اوپر ایک کمرہ سا بنا کر اس کمرے کی چھت پر بالکل اسی قبر کی نقل بنا دیتے تھے تا کہ اصل قبر محفوظ رہے۔مثلاً حضرت مسیح فوت ہوئے تو سارے یہودیوں نے جو ان کی تبلیغ سے عیسائی ہوئے تھے کثرت سے وہاں آنا تھا اور ہر قسم کے آدمی ہوتے ہیں، کوئی مٹی اٹھاتا ہے کوئی کسی چیز کو چھیڑتا ہے۔اس لئے اس کی حفاظت کے لئے اس کے اوپر بالکل اسی کی شکل کی قبر بنائی ہوئی ہے اور اس کے سرہانے دیار رکھنے کی جگہ پر صلیب بنی ہوئی ہے۔کسی مسلمان کے سرہانے تو کوئی صلیب نہیں بنا تا۔یہ بھی ایک دلیل ہے اور بہت سی باتیں ہیں۔جو چیز میں آپ کو بتانے لگا ہوں وہ یہ ہے اس قبر کی تحقیق نہیں ہوئی لیکن ایک سیکنڈ کے لئے بھی ہمارے دل میں کوئی گھبراہٹ پیدا نہیں ہوئی۔اس واسطے کہ یہ بتانے والا علام الغیوب خدا ہے کہ یہاں حضرت مسیح دفن ہیں۔دنیا جو چاہے کر لے لیکن ثابت یہی ہوگا کہ حضرت مسیح کا جسد عنصری اسی جگہ دفن ہے۔اس کے علاوہ اور کچھ ثابت ہو ہی نہیں سکتا۔لیکن ہمارے اختیار میں تو نہیں کہ ہم وہاں جا کر تحقیق کریں اس واسطے جب مجھ سے پوچھا گیا کہ ہونی چاہئیے ؟ تو میں نے کہا کہ ہونی چاہئے۔ہماری