سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 385
سبیل الرشاد جلد دوم پھر فرمایا: 385 بڑی وضاحت کے ساتھ اس کا نفرنس میں حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق قرآن کریم نے جو بیان کیا ہے اسے اور انجیل میں اس وقت بھی اور ان حالات میں بھی جو حقیقتیں پائی جاتی ہیں انہیں تاریخ میں حضرت مسیح کے متعلق جو باتیں ہیں انہیں ، طب کی کتب میں حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیب سے زندہ اُترنے کے متعلق جو شہادتیں ہیں انہیں اور اس قسم کے دیگر تمام مضامین کو بیان کیا گیا۔مختلف مقررین اور محققین نے جن میں احمدی بھی تھے اور وہ بھی تھے جو احمدی نہیں اور اسلام کی طرف منسوب ہونے والے ہیں اور عیسائی بھی تھے اور والله اعلم شاید بعض ایسے بھی ہوں جو عیسائیت کو چھوڑ چکے ہوں۔ان سب نے مقالے پڑھے اور ہر چیز کھول کر بیان کر دی۔میں نے چونکہ آخر میں بولنا تھا اس لئے میرے لئے دقت یہ تھی کہ مجھ سے پہلے ہر موضوع پر بہت تفصیل کے ساتھ کوئی نہ کوئی بول چکا تھا۔اس لئے اور میں خوش ہوں کہ اس لئے مجھے بہت دعائیں کرنے کی توفیق ملی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے مضمون میں شرمندہ نہ کیا بلکہ ایک نہایت اچھا اور مؤثر مضمون تیار ہو گیا اور جیسا کہ آپ نے سنا جو چیز صرف میں ہی کر سکتا تھا یعنی ان کو دعوت دینا اسلام کی طرف اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کرنے کی طرف اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کر لینے کی طرف، وہ دعوت میں نے بڑے پیار کے ساتھ مگر زور دار الفاظ میں اُن تک پہنچا دی اور جن علاقوں کی خبریں اس انگریز ایجنسی کے پاس پہنچیں جن کو ہم نے اطلاعات اکٹھی کرنے کے لئے مقرر کیا تھا اس کے مطابق ۱۴ کروڑ انسانوں تک یہ آواز پہنچ گئی۔لیکن یہ تعداد کم ہے کیونکہ ہماری اطلاع کے مطابق ان علاقوں کے علاوہ افریقہ کے عیسائی اخباروں نے اس کا نفرنس کے متعلق اور اس عقیدہ کے متعلق ۴ ۴ صفحے کے ضمیمے لکھے اور ایک شخص کہنے لگے کہ مجھے میرے کسی واقف نے اطلاع دی ہے کہ ساؤتھ امریکہ میں (جہاں ہمارا کوئی مشن بھی نہیں اور ہمیں براہ راست کوئی اطلاع بھی نہیں آئی ) ایک اخبار نے نصف صفحے سے زیادہ ان عقائد کے متعلق خبر دی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر بھی شائع کی۔اسی طرح ایران میں اور ایشیا کے بہت سے ملکوں میں چھپا۔جاپان میں ٹوکیو سے انگریزی کا ایک بہت بڑا اخبار نکلتا ہے اس میں ایک لمبی خط و کتابت شائع ہوئی۔وہاں ہمارے مبلغ نے اس میں مضمون لکھا پھر کسی نے اس کے خلاف اور کسی نے اس کی تائید میں لکھا لمبا چوڑ اقصہ چلا۔اخبار کچھ عرصے کے بعد اسے بند کر دیتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ خود اخبار پر اتنا اثر تھا کہ انہوں نے ہمارے مبلغ کو لکھا کہ اب ہم صرف ایک خط شائع کرنا چاہتے ہیں اس کے بعد بند کر دیں گے اور ہم چاہتے کے آخری خط جو شائع ہو وہ تمہارا ہو۔چنانچہ ہمارے مبلغ کو موقع مل گیا اور انہوں نے سارا مواد اکٹھا کر کے مجموعی طور پر جو کچھ ہو چکا تھا اور جو چرچ کا رد عمل تھا اس کے بارہ میں خط لکھ دیا۔دعوت تو خود چرچ نے دی تھی