سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 379
379 سبیل الرشاد جلد دوم جس کا ایک حصہ واپس کر دیا ہے اور دوسرا حصہ بھی عنقریب واپس ہو جائے گا۔چنانچہ ایک نہایت خوبصورت مسجد گوٹن برگ ، سویڈن کی ایک پہاڑی کی چوٹی پر بنی ہے۔وہاں پتھریلی زمین تھی۔جس میں اس سائبان کی اونچائی جتنے بڑے بڑے پتھر زمین میں دھنسے ہوئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے وہ ہمارے لئے ریز رور کھی ہوئی تھی کسی اور کے دل میں خواہش ہی نہیں پیدا ہوئی کہ اُس کو لے کر پتھروں کو صاف کر کے وہاں کوئی چیز بنالے۔وہ ہمارے حصہ میں آگئی۔خاصی بڑی جگہ ہے غالباً دوا یکڑ کے قریب ہے۔غرض اس چوٹی پر مسجد بن گئی ہے اور سارے شہر کو سوائے اس کے جو بعض پہاڑیوں کے سائے میں آیا ہوا ہے مسجد نظر آتی ہے اور مسجد سے سارا شہر نظر آتا ہے۔نہایت شاندار اور خوبصورت مسجد ہے اور وہاں سے خدا تعالیٰ کا نام بلند ہو رہا ہے اور یہ وہاں کا معمول ہے کہ روزانہ کوئی نہ کوئی وفد یا سکول کے ٹیچر ز کے ساتھ کوئی پارٹی یا کچھ لوگ مسجد دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔عیسائیوں نے یہ مشہور کر دیا ہے کہ عورت مسجد میں داخل نہیں ہو سکتی۔چنانچہ جب ۷۶ء میں ، میں نے اس کا افتتاح کیا تو عورتوں میں یہ شوق پیدا ہوا کہ ہم جا کر دیکھیں تو سہی کہ وہ کون سی عمارت ہے جس میں عورت نہیں داخل ہو سکتی۔جب وہ آتی تھیں تو ہمارے مبلغ اور دوسرے احمدی جو وہاں موجود ہوتے تھے ان کو کہتے تھے کہ تمہیں کسی نے غلط بتایا ہے تم اندر جاسکتی ہو۔وہ کہتیں کہ اچھا! ہم جا سکتی ہیں ؟ وہ کہتے کہ صرف یہ ہے کہ تم پتہ نہیں کہاں پھرتی رہی ہو تمہارے جوتوں کو گند لگا ہوا ہو گا ان کو باہر اُتار دو اور اندر چلی جاؤ۔چنانچہ وہ بڑے شوق سے اور پیار کے ساتھ اندر جاتیں اور دیکھتیں۔مسجد اپنے اندر ایک عجیب شان اور ایک رعب کی کیفیت پیدا کرنے والا خاصہ رکھتی ہے اور جو بھی اندر جاتے ہیں خواہ غیر مسلم ہوں بے ساختہ ان کی زبان سے نکلتا ہے کہ یہاں تو بڑی پرسکون فضا ہے۔یہاں تو ہم پر عجیب اثر ہوتا ہے۔وہاں نہ کوئی تصویر ہے نہ کوئی اور سجاوٹ کی چیز۔ایک چیز ہے جو اُس کو سجا رہی ہے اور وہ ہے خدا تعالیٰ کی بزرگی اور قدوسیت اور وحدانیت کی تعلیم کو عام کرنے کا عزم جو نمازی وہاں اپنے دل میں لے کر جاتے ہیں اور جو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرتے ہیں وہ مسجد کے اندر کوئی ایسی چیز پیدا کرتے ہیں کہ جب عیسائی اس ہوا میں سانس لیتا ہے تو اس سے اثر قبول کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔یہ ہے اَنَّ الْمَسْجِدَ لِله کا مفہوم۔جو مساجد خدا کے لئے اور اُس کی رضا کے حصول کے لئے بنائی جائیں وہ اسی قسم کی مساجد ہوتی ہیں۔اس کے علاوہ صد سالہ جوبلی منصوبہ نے اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ توفیق پائی کہ لندن میں Deliverance of Jesus from the Cross کے موضوع پر کانفرنس ہوئی۔ہم سوچ بھی نہیں سورة الجن آیت ۱۹