سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 378 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 378

سبیل الرشاد جلد دوم قرآن 378 بشنز (Publications) سے خرید سکتے ہیں۔میرے پاس پہلی کا پی آ گئی ہے ممکن ہے اس کی جلد بندی وغیرہ میں دس پندرہ دن اور لگ جائیں تاہم وہ جلد آنے شروع ہو جائیں گے۔میں نے صرف امریکہ کے متعلق بتایا ہے۔یورپ کے بعض ملک بھی ہمارے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ ہمیں قرآن کریم کا ترجمہ دو۔ان میں سے دو ملک ایسے ہیں جن میں زیادہ تر وہاں کے مسلمانوں کا یہ مطالبہ ہے کہ ہمیں قرآن کریم کا ترجمہ دیں کیونکہ وہاں دہریت کی فضا زیادہ ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنی نسلوں کو د ہر یہ نہیں بنانا چاہتے۔سوئٹزر لینڈ میں مجھے میرے بعض دوستوں نے جو احمدی نہیں تھے یہ کہا کہ آپ یہاں آئے ہوئے ہیں اور اسلام پھیلا رہے ہیں ، یہاں پر لاکھوں کی تعداد میں مسلمان خاندان ہیں لیکن ان کے بچوں کے پاس اسلام کے متعلق کوئی کتاب نہیں ہے آپ ہمیں ایسی کتابیں دیں۔غرض دنیا میں یہ احساس بیدار ہو گیا ہے کہ ہمیں اسلامی اخلاق کے متعلق، اسلامی تربیت کے متعلق ، اسلامی تعلیم کے متعلق ، اسلامی روحانیت کے متعلق لٹریچر ملنا چاہیئے اور وہ ہم سے مطالبہ کر رہے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم انہیں لٹریچر دیں۔کوئی اور بھی سمجھتا ہے تو وہ بھی ادا کرے۔ہمیں اس سے زیادہ خوشی کی اور کوئی بات نہیں ہوگی۔لیکن میں تو اپنے متعلق ہی بات کروں گا کہ ہمارا یہ فرض ہے۔غرض دنیا میں احساس پیدا ہو چکا ہے۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ سویڈن میں ایک صحافیہ نے کہا کہ آپ اتنی دیر کے بعد ہمارے علاقہ میں کیوں پہنچے ہیں۔اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم روز بروز گندی زیست میں دھنسے چلے جاتے ہیں اور آپ نے ہمارا خیال ہی نہیں کیا۔اتنی حسین تعلیم جو گند سے پاک کرنے والی ہے اسے اپنے پاس لے کر بیٹھے رہے اور ہماری آپ لوگوں نے پروا ہی کوئی نہیں کی۔اس سے پہلے کیوں نہیں آئے۔پہلے جانے یا نہ جانے کے متعلق تو خدائی تقدیر ہی کام کر رہی تھی۔ہمارے پاس تو نہ پیسہ، نہ اقتدار، نہ کوئی طاقت، صرف ایک چیز ہے اور وہ بہت بڑی ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل تو نہ میں ، نہ آپ آسمانوں سے چھین کر تو نہیں لا سکتے وہ تو اپنے پیار سے جب چاہے گا جتنا چاہے گا نازل کرے گا۔ہمارا کام ہے کہ ہم الحمد للہ کہیں اور اپنی سی طاقت اس کی راہ میں خرچ کر دیں۔۔صد سالہ جوبلی کا اعلان ۷۳ء میں ہوا۔اس کے کچھ کام اگلی صدی کے آنے سے قبل ہونے والے تھے مثلاً سب جگہ مشن بنانے وغیرہ۔اللہ تعالیٰ نے اس منصوبہ میں بڑی برکت ڈالی۔سب سے پہلے برکت کا یہ موقع دیا کہ سویڈن میں اس منصوبہ کے تحت یورپ کی جماعتوں کے چندے اور قربانی سے مسجد تعمیر ہوئی۔ہمارے ملک میں بسنے والوں کی ایک دھیلے کی بھی Contribution اور قربانی اس میں شامل نہیں۔ساری کی ساری بیرونی جماعتوں کی قربانی ہے۔تھوڑی سی رقم انہوں نے امریکہ سے قرض لی تھی