سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 370 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 370

370 سبیل الرشاد جلد دوم بڑا غور کیا اور بڑا مشاہدہ کیا۔دنیا میں سب سے زیادہ طاقت خدا تعالیٰ نے جس کو دی ہے وہ پیار ہے۔انسانی تاریخ میں کبھی ایسا واقعہ نہیں ہوا کہ نفرتیں آخر کار کامیاب ہوئی ہوں بلکہ ہم نے ہمیشہ یہی دیکھا کہ پیار و محبت کے حامل اور علمبر دار لوگوں کو خدا تعالیٰ نے اپنی رحمتوں سے نوازا اور انسان کے خادموں سے خدا تعالیٰ نے پیار کیا۔انسان کے دشمنوں سے اس نے پیار نہیں کیا اور نہ ہی اپنی برکتوں سے انہیں نوازا۔جب ہم کسی چیز کے متعلق بولتے ہیں تو صوتی لہروں کے ساتھ ہماری جذباتی لہریں بھی شامل ہو جاتی ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ جب میں عیسائیوں اور دہریوں سے یورپ میں بات کرتا ہوں اور یہ بات ان سے بیان کرتا ہوں کہ اسلام نے ہمیں محبت کرنا سکھایا ہے نفرت کرنا نہیں سکھایا۔تو ان کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔تیسری صفت جو جماعت میں پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ ایک امن پسند جماعت ہے جو قانون شکنی نہیں کرتی۔اور فساد خواہ کسی رنگ میں بھی پایا جائے اس میں حصہ دار نہیں بنتی۔قانون کا احترام کرتی ہے اور اگر خدا تعالیٰ کی محبت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق سے کوئی قانون نہ ٹکرائے تو وہ قانون کی پابندی کرتی چلی جائے گی۔اور جہاں تک ہم نے دیکھا ہے اور آج کی دنیا کا مطالعہ کیا ہے۔انسان جان بوجھ کر ایسے قوانین نہیں بنا رہا جو دوسرے انسانوں کے مذہبی جذبات سے کھیلنے والے ہوں لیکن بعض دفعہ ایسے استثناء پائے جاتے ہیں کہ جو لوگ دنیا میں قانون چلانے والے ہیں افریقہ میں، انگلستان میں ، یورپ میں ، امریکہ میں اور جزائر وغیرہ میں۔میں ساری دنیا کی بات کر رہا ہوں۔ان میں سے بعض لوگ ایسے متعصب ہوتے ہیں جو قانون کا غلط استعمال کرتے اور بعض لوگوں کے مذہبی جذبات سے کھیلنے لگ جاتے ہیں۔لیکن وہ قو میں جن میں ایسا واقعہ ہوتا ہے اسے پسند نہیں کرتیں۔مثلاً میرے اسی سفر کے دوران جب میں نے مغربی افریقہ جانے کا پروگرام بنایا تو نائیجیریا کے ایک افسر نے بلا وجہ اپنے بالا افسروں سے غلط باتیں بیان کر کے وقتی طور پر یہ حالت پیدا کر دی کہ نائیجیریا نے ویزا دینے کے بعد ہمارا ویزا واپس لے لیا اور پھر چند دن کے بعد انہوں نے معذرت بھی کر دی کہ ہمیں بڑا افسوس ہے کہ ایسا ہوا۔اور ہم خوش نہیں ہیں کہ ہم میں سے کسی شخص نے اس قسم کے حالات پیدا کئے۔اب وہ اس سے کیا سلوک کرتے ہیں۔اس کا ہمیں علم نہیں۔نہ ہمارا اس سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہم کسی کی بدخواہی کرتے ہیں۔اس لئے اگر وہ اس شخص کو معاف ہی کر دیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ اسی میں اس کی بھی اور آوروں کی بھی بہتری ہے۔