سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 359
6 359 سبیل الرشاد جلد دوم کو کھلا دیا جائے اور اس کا Germ یعنی وٹامن ای کو کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر پھینک دیا جائے۔پس ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو چیز جس شکل میں بنائی ہے اس کو اسی شکل میں کھانے کی کوشش کی جائے۔دیہاتوں میں لوگ چکیوں کا پسا ہوا آٹا کھاتے تھے مگر اب دیہاتوں نے بھی اپنی چکیاں چھوڑ دیں۔میں نے امریکہ سے ایک چھوٹی سی چکی منگوائی ہے، بڑی سستی اور ہے بھی بڑی چھوٹی سی۔دومنٹ میں آدھ سیر آٹا پیس دیتی ہے۔میں چونکہ بہت کم کھانے والا ہوں۔ایک وقت میں میں ایک چھٹانک آٹا کھاتا ہوں۔ایک دن کا پسا ہوا آٹا دو تین دن تک میرے کام آ جاتا ہے۔چکی میں جو آٹا پستا ہے اس میں سے کوئی چیز نہیں نکلتی۔نہ اس کا جرم نکلتا ہے اور نہ اس کا سوڑھا نکلتا ہے۔ایک دفعہ مجھے خیال آیا یہ جو میں نے امریکہ سے چکی منگوائی ہے ، کیوں نہ میں یہاں سے پتہ کرواؤں۔پرانے زمانے میں جب یہاں کے لوگ چکیاں استعمال کرتے تھے تو اُن کی ضرورت کے لئے چکیاں سپلائی کرنے والے تاجروں کو پتہ ہوتا تھا کہ چکی کا بہترین پتھر کہاں سے ملتا ہے اور اچھے پتھر کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ جب اُسے آٹا پیسنے کے لئے استعمال کیا جائے تو اس کے اندر کرک“ نہ آئے۔خدا تعالیٰ نے بڑے مضبوط پتھر ، چکیاں بنانے کے لئے بھی تو بنائے ہوئے ہیں لیکن جب انسان نے چکی کا استعمال چھوڑ دیا تو کسی کو پتہ ہی نہ رہا کہ اچھا پتھر کہاں سے ملتا ہے۔چنانچہ ایک دن بعض دیہاتی دوست ملاقات کے لئے آئے ہوئے تھے۔میں نے اُن میں سے ایک دوست سے کہا میں نے پتھر کی چنگی خریدنی ہے۔میں لوں گا مول، مفت نہیں لوں گا۔اگر کسی کے گھر میں چکی پڑی ہوئی ہو تو تلاش کر کے ایک چکی مجھے لا دیں۔خیر انہوں نے کئی دنوں تک تلاش کی۔آخر کار بڑی مشکل سے ڈھونڈ کر وہ ایک چکی لے آئے۔پس میں دوستوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے گھروں میں چکیاں رکھیں اس سے اُن کی صحت اچھی رہے گی۔اُن کی بیویوں اور بیٹیوں کی بھی ورزش ہوتی رہے گی۔سب گھر والوں کی بھی صحت اچھی رہے گی کیونکہ چکی کا پسا ہوا تازہ بتازہ آٹا میسر آئے گا۔پھر میں بڑی دیر سے کہہ رہا ہوں کہ دوست اپنے گھروں میں کوئی نہ کوئی پھل دار درخت ضرور لگا ئیں۔جس آدمی کے پاس پانچ مرلے زمین ہے اس میں بھی کئی درخت لگ جاتے ہیں۔پہلے سال انجیر پھل دے دیتا ہے۔دوسرے سال شہتوت پھل دے دیتا ہے۔کوئی پھل کھائیں اس کے اندر بہت سی اچھی غذائیت والی چیزیں ہوتی ہیں۔میں نے سویا بین کے متعلق کہا تھا۔اس میں کچھ محنت کرنی پڑتی ہے۔اس طرف دوستوں نے توجہ نہیں کی۔بہر حال مجھے غرض ہے نہ سویا بین سے۔نہ شہتوت سے، نہ انجیر سے،