سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 346 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 346

346 سبیل الرشاد جلد دوم میں اسلام ساری دنیا میں غالب آئے گا۔تمام مذاہب کا بطلان ثابت کر کے دنیا کے دل سے اپنی صداقت منوائے گا اور نوع انسانی کو امت واحدہ بنادے گا۔یہ بشارت دی گئی تھی لیکن مُنْعَمُ عَلَيْهِ کا جو پہلا گر وہ ہے اور جو تین صدیوں پر پھیلا ہوا ہے ، ان کے ساتھ اس کا تعلق نہیں۔بعد میں فیج اعوج کے زمانہ میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر مسلمان آپس میں لڑ پڑتے تھے۔حالانکہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں بہر حال وجہ اختلاف نہیں بنتی تھیں کیونکہ اختلاف عقیدہ اور بات ہے اور آپس میں لڑ پڑنا اور بات ہے۔اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غصے کا اظہار فرمایا ہے۔لیکن مسلمانوں نے آپ کے اظہار ناراضگی کے باوجود آپس میں لڑنا شروع کر دیا۔کسی نے آمین بالجہر کہہ دی تب کوئی دوسرا لڑ پڑا۔نہیں کہی تب کوئی دوسرا لڑ پڑا۔کسی نے ہاتھ باندھ کر کسی مسجد میں نماز پڑھ لی تب لڑائی ہو گئی کسی نے ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھ لی تو وہاں لڑائی ہو گئی۔یہ وہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جن کا حل بھی موجود تھا۔ہماری اپنی روایات میں ان کا حل موجود تھا مگر ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی تفرقہ بازی شروع ہوگئی۔اور یہ اس لئے ہوا کہ مہدی کا ابھی زمانہ نہیں آیا تھا جس میں یہ آخری وعدہ دیا گیا تھا کہ بنی نوع انسان کو امتِ واحدہ بنا دیا جائے گا۔اس کا ابھی وقت نہیں آیا تھا۔اس لئے باوجود اس کے کہ پہلی تین صدیوں میں خدا کے برگزیدہ بندے ابرار و اخیار اور اولیاء اللہ بڑی کثرت سے پیدا ہوئے۔یہاں تک کہ اُن کے مقابلے میں وہ مقربین الہی کوئی حیثیت نہیں رکھتے جو فیج اعوج کے زمانے میں دریائے عظیم کی مانند تھے۔گویا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر کہ لو۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی زبر دست قوت قدسیہ کام کر رہی تھی لیکن امتِ واحدہ بنانے کی کوئی صورت پیدا نہ ہوئی۔اُس وقت ویسے بھی یہ بات ناممکن تھی۔اسلام کا عالمگیر غلبہ اور نوع انسانی کے دل جیت کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کر کے ان کو امت واحدہ بنانے کا کام مسیح موعود کے ذریعہ پورا ہونا مقدر ہے۔اُس وقت یہ کام ویسے بھی ناممکن تھا کیونکہ ذرائع آمد ورفت کے نہ ہونے کی وجہ سے مثلاً افریقہ سے تاشقند یا ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچنا کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن اب ذرائع آمد و رفت میں انقلابی ترقی آجانے سے سالوں کا سفر چند گھنٹوں میں طے ہو جاتا ہے۔ہمارے کئی تاریخ دان اور سیاح ایسے تھے جو سالہا سال گھر سے باہر رہے۔وہ اپنے گھر سے رخصت ہو کر چلتے تھے کہ پتہ نہیں زندہ واپس بھی آتے ہیں یا نہیں۔چنانچہ ساری عمر چلتے چلتے کوئی چین پہنچ گیا اور کوئی کہیں سے کہیں پہنچ گیا۔ایسے لوگ جہاں بھی گئے وہاں انہوں نے اپنے علم کے مطابق اسلام پھیلایا۔پس اسلام کی ترقی میں خدا تعالیٰ کی اور حکمتیں تھیں جو کام کر رہی تھیں اور وہ بڑی شاندار حکمتیں تھیں۔میں اس وقت ان حکمتوں کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔بہر حال یہ بات بالکل واضح ہے کوئی شخص