سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 327 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 327

327 سبیل الرشاد جلد دوم بنتا ہے اور اس سے ہم تصویریں لیتے ہیں، بالکل اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کی شکل کاNegative چادر کے اوپر آ گیا اور اس سے انہوں نے Positive یعنی تصویر نکالی تو پتہ لگا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وہ دو تصویر میں جو عیسائیوں کے دو مختلف گروہوں نے بنا رکھی تھیں اور ان میں سے ہر ایک یہ کہتا تھا کہ یہ صحیح ہے اور دوسرا کہتا یہ صحیح ہے۔وہ دونوں غلط تصویر میں تھیں۔گویا تثلیث کا سارا ڈھانچہ قیاس آرائیوں پر کھڑا کیا گیا تھا۔غرض کفن مسیح پر سائنسدانوں کی تحقیق پر مشتمل یہ کتاب خاصی نعیم ہے جو غالبا جرمن زبان میں لکھی گئی تھی۔پھر انگریزی زبان میں اور اب ڈچ میں بھی اس کا ترجمہ ہو گیا ہے۔افغانستان کے ایک حصے میں کوئی ایک ہزار کے قریب ایسے عیسائی بستے ہیں جو اپنے آپ کو عیسائی مسلمان کہتے ہیں اور اُن کا یہ دعوئی ہے کہ حضرت مسیح کشمیر جاتے ہوئے وہاں سے گزرے تو کچھ یہودی جو وہاں بستے تھے ان میں وہ ٹھہرے اور اُن کو تبلیغ کی۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح کی اصل انجیل اُن کے پاس موجود ہے۔اور دُنیا میں اس وقت جو انجیلیں پیش کی جارہی ہیں ، اُن کا وہ مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو رطب و یابس کا مجموعہ ہیں۔ان میں تو وہ باتیں ہی نہیں جو حضرت مسیح علیہ السلام نے صحیح انجیل میں بتائی تھیں اور یہ بھی کہ انسانی ہاتھ نے تحریف کر کے انجیلوں کو بدل دیا ہے۔غرض یہ ایک نئی بات سامنے آ گئی جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کی تصدیق میں ایک اور دلیل مل گئی۔میں بتا یہ رہا ہوں کہ یہ شان ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں اور تقریروں کی جو آپ کی کتابوں میں محفوظ ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ اب خدا تعالیٰ نے اسلام کو غالب کرنے کا فیصلہ کیا ہے عیسائیت خود بخود مر جائے گی۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے بڑے لاٹ پادری ہیں جن کے دلوں سے عیسائیت مٹ گئی ہے۔وہ لوگ جو خداوند یسوع مسیح کا پیار اور محبت دنیا میں بانٹنے کا دعویٰ کرتے تھے انہوں نے خود اپنے دلوں سے عیسائیت کی محبت کو نکال باہر کیا۔بڑے بڑے لاٹ پادری اور بشپ حضرت مسیح علیہ السلام کے خلاف اس قسم کے بیان دینے لگ گئے ہیں کہ ہم کانپ اُٹھتے ہیں۔غالباً ایک بشپ جو بہت بڑا پادری ہے۔اس نے ایک کتاب لکھی ہے جس کے آخر میں وہ لکھتا ہے کہ میں نے ساری عمر مسیح کی زندگی پر تحقیق کی ہے اور میری تحقیق کا نچوڑ یہ ہے کہ مسیح نعوذ باللہ بدمعاش تھا۔اور اس کو عیسائیت سے نکالنے کی بجائے ترقی دے کر کوئی اور اونچا عہدہ دے دیا گیا ہے۔عیسائیوں کے جو گرجے ہیں وہ خالی ہو گئے۔میں نے خود اپنی آنکھوں سے لندن میں گرجوں کے سامنے’برائے فروخت کا بورڈ دیکھا ہے۔مجھے بتایا گیا کہ بہت سے گرجے بک گئے ، کسی جگہ شراب خانہ بن گیا، کسی جگہ مختبہ خانہ بن گیا اور کسی جگہ موٹر گیراج بن گیا۔