سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 326 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 326

326 سبیل الرشاد جلد دوم ہی فوت ہوئے اور وہیں اُن کی قبر ہے۔آپ نے فرمایا یہ تو مجھے خدا نے بتایا ہے اور میں تمہیں خدا کے علم سے یہ بھی بتا تا ہوں کہ جو باتیں میں تمہیں بتا رہا ہوں ، اُن کی تائید میں وہی لوگ دلائل اکٹھے کریں گے جو ہمارے اور اسلام کے مخالف ہیں۔چنانچہ خدا کی یہ شان ہے کہ ایک تو جس چادر میں حضرت مسیح علیہ السلام کے زخموں پر مرہم لگا کر اُن کو لپیٹا گیا تھا، وہ اُس وقت سے محفوظ پڑی ہے۔کچھ عرصہ ہوا مختلف علوم کے ماہر تین سوسائنسدانوں نے اس چادر پر تحقیق کی۔پھر انہوں نے صلیب کے متعلق تحقیق کی۔اُس زمانہ میں آج کل کی طرح پھانسی پر لٹکانے والی صلیب نہیں ہوا کرتی تھی یعنی یہ کہ گلے میں پھندا لگایا اور ایک جھٹکے کے ساتھ گردن کا منکا ٹوٹ گیا۔بلکہ صلیب پر زندہ آدمی کے ہاتھ پاؤں لکڑی کے ساتھ گاڑ دیتے تھے اور پھر اُن میں کیلیں ٹھوک دیتے تھے۔اس طرح آدمی لٹکتا رہتا تھا اور بھوکا پیاسا بڑی تکلیف کے اندر رہ کر کوئی دو دن کے بعد اور کوئی تین دن کے بعد فوت ہو جاتا تھا۔حضرت مسیح علیہ السلام کے دشمنوں نے ظلم کی راہیں اختیار کرتے ہوئے جہاں اُن کو اس قسم کی کئی اور تکلفیں دیں اور زخم پہنچائے وہاں اُن کے سینے میں بائیں طرف نیزہ بھی مارا اور لوگ کہنے لگے کہ نیزہ تو دل کے اندر چبھ گیا تھا کیونکہ وہ دل کی جگہ تھی۔جب نیزہ دل میں لگا تو وہ بیچ کیسے سکتے تھے چنانچہ ان ہی سائنسدانوں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ نیزہ اُن کے دل میں نہیں لگا تھا۔کیونکہ اُس زمانے میں جس طرح آدمی کو صلیب پر لٹکایا جاتا تھا دل اُس جگہ نہیں رہتا جس جگہ عام طور پر ہوتا ہے بلکہ اس حالت میں کہ انسان کا جسم صلیب پر لٹکا ہوا ہو تو دل اپنی جگہ چھوڑ کر نیچے آ جاتا ہے پس جس جگہ نیزہ لگا ہے وہ تو وہ جگہ ہی نہیں جہاں دل تھا۔جہاں تک اس چادر پر تحقیق کا تعلق ہے جس میں حضرت مسیح علیہ السلام کے زخموں پر مرہم لگا کر لپیٹا گیا تھا اس سے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعویٰ کی تصدیق ہوتی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر سے زندہ اُترے تھے کیونکہ ان سائنسدانوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس چادر پر جو خون کے دھبے ہیں وہ بہتے ہوئے خون کی نشاندہی کرتے ہیں حالانکہ جو آدمی فوت ہو جاتا ہے اس کا خون تو منجمد ہو جاتا ہے اور خون میں بہنے کی جو صفت ہے وہ باقی نہیں رہتی۔خون میں بہنے کی جو خاصیت ہے وہ تو صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب دل حرکت کر رہا ہو۔دل کی حرکت کے مطابق خون گردش کرتا ہے۔اس حالت میں اگر کوئی زخم آئے تو وہ بہنے لگتا ہے لیکن مردہ کے اندر سے خون نہیں بہتا۔اس تحقیق کے نتیجہ میں ضمناً ایک اور چیز بھی مل گئی اور وہ یہ کہ پہلی دفعہ حضرت مسیح علیہ السلام کی صحیح شبیہ ( تصویر ) کا عکس اس چادر پر مل گیا۔حضرت مسیح علیہ السلام کے منہ پر بھی زخم آئے تھے اس لئے اُن کے سارے سر پر مرہم لگائی گئی تھی جس نے Negative کا کام کیا جس طرح کیمرہ سے ایک Negative