سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 325 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 325

325 سبیل الرشاد جلد دوم سے ہم اپنے آپ کو بھی محروم کر رہے ہوں گے اور اپنی نسلوں کو بھی محروم کر رہے ہوں گے۔اور دوسرے یہ کہ جو خاندان پڑھنا جانتے ہیں ، وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ کریں۔مجھے یہ کہتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے کہ چونکہ آپ کو عادت پڑ گئی ہے کتابیں نہ خریدنے کی اس لئے ہمارے اشاعت لٹریچر کے جو ادارے ہیں ان کو یہ گندی عادت پڑ گئی ہے کہ جب کبھی میں اُن سے کسی کتاب کے متعلق یہ پوچھتا ہوں کہ کتنی تعداد میں شائع کر رہے ہو تو وہ کہہ دیتے ہیں جی ہم ایک ہزار کی تعداد میں شائع کریں گے۔پاکستان میں خدا کے فضل سے ہماری بہت بڑی جماعت ہے۔زبان بھی اردو ہے۔لیکن ان کے لئے ہمارے ادارے ایک ہزار کی تعداد میں کتاب شائع کرتے ہیں۔میں اُن سے کہتا ہوں کہ تمہارے دماغ میں تو یہ آنا چاہئے کہ ایک لاکھ کی تعداد میں شائع کرتے ہیں۔ایک ہزار کی تعداد میں تو وہاں بھی کتابیں شائع نہیں ہوتیں جہاں ہماری چھوٹی چھوٹی جماعتیں ہیں اور ملک بھی ہمارے ملک سے بہت چھوٹے ہیں اور جماعتیں بھی اسی نسبت سے بہت چھوٹی ہیں۔اب مثلاً غانا کی جماعت نے مجھے لکھا کہ انہیں انگریزی ترجمہ قرآن کریم کی ضرورت ہے۔اس لئے اجازت دیں کہ وہ دس ہزار کی تعداد میں شائع کریں۔حالانکہ غانا کی کل آبادی ۳۰ - ۳۵ لاکھ سے زیادہ نہیں۔شاید اب تک ۴۰ لاکھ تک پہنچ گئی ہو۔اور ہماری آبادی سات کروڑ ہے۔وہ تو دس ہزار شائع کرنے کی بات کر رہے ہیں لیکن ہمارے اشاعت کے جو مختلف ادارے ہیں وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ ایک ہزار کی تعداد میں شائع کر دیتے ہیں۔بعض دفعہ کہتے ہیں کہ ایک ہزار بھی نہیں بکتی۔ٹھیک ہے یہ میری ذمہ داری ہے لیکن جب تک آپ میرے ساتھ تعاون نہیں کرتے۔میں اپنی اس ذمہ داری کو کیسے نباہوں گا۔میں چاہتا ہوں کہ ہر گھر کے اندر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب موجود ہوں اور کثرت سے اُن کے پڑھنے والے ہوں اور پھر آپس میں تبادلہ خیالات کرنے والے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب میں ہر مسئلہ پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔آپ کوئی مسئلہ لے لیں مثلاً وفات مسیح کا مسئلہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دس پندرہ کتب میں اس کے متعلق لکھا ہوا ہے۔یہ مسئلہ پوری طرح تو ہمارے سامنے تب آئے گا جب ہم آپ کی کتب پڑھیں گے اور ان کا دور کریں گے۔آپ کی کتابوں میں خدا تعالیٰ کی عجیب شان نظر آتی ہے کہ کس طرح معلم حقیقی نے آپ کو سکھا یا تھا۔آپ نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کے الہام و وحی سے میں نے یہ علم حاصل کیا ہے۔کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر نہیں مرے۔وہ صلیب پر سے زندہ اُترے، زندہ رہے۔انہوں نے بنی اسرائیل کی گم شدہ بھیڑوں یعنی بکھرے ہوئے قبائل میں تبلیغ کی۔پشاور کے راستے کشمیر گئے۔وہاں پر