سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 324 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 324

سبیل الرشاد جلد دوم آ۔324 لئے اور اس کا علم حاصل کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا پڑھنا از بس ضروری ہے۔پ کے زمانہ میں آپ سے باہر ہمیں قرآن کریم کی وہ تفسیر کہیں نہیں مل سکتی جو اس ہزار سال کے مسائل کو حل کر نے والی ہو۔لیکن آنے والے اپنے اپنے وقت پر قرآن کریم کی تفسیر کریں گے۔جس زمانہ میں اور جس نسل میں ہم ہیں ہمیں تو اپنی فکر کرنی چاہئے۔دوا ہم ذمہ داریاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب فی الحقیقت روحانی خزانے ہیں لیکن جماعت ان سے استفادہ کرنے کی طرف پوری توجہ نہیں کر رہی اور یہ بہت افسوس کی بات ہے اور بڑے فکر کی بات ہے اور میرے لئے بڑی پریشانی کی بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کی جو تفسیر ہمارے ہاتھ میں دی ہے۔وہ بڑی ہی عجیب چیز ہے۔ہم اسے جتنی دفعہ پڑھتے ہیں اتنی دفعہ نئے سے نئے معنے سمجھ میں آتے ہیں۔میں نے بعض کتب کو شاید دس دس پندرہ پندرہ دفعہ پڑھا ہے۔ہر دفعہ نئی سے نئی چیزیں ذہن کے اندر آ جاتی ہیں۔چونکہ خدا تعالیٰ نے ایک ہزار سال کی ضرورتیں پورا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قرآن کریم کی تفسیر سکھائی ہے اس لئے وہ ساری چیزیں اس میں موجود ہیں جن کی اب ہمیں ضرورت ہے یا آئندہ پیش آئے گی۔البتہ کچھ تفصیل سے ہیں اور کچھ پیج کے طور پر اشارے ہیں جن کو اگلی صدی والے سمجھیں گے اور پھر اس سے اگلی صدی والے سمجھیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پڑھنا آتا ہو۔اب جو شخص اُردو نہیں پڑھ سکتا، وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب بھی نہیں پڑھ سکتا۔اس کے لئے ہمیں کوئی انتظام کرنا چاہئے۔میں سمجھتا ہوں اس کی ذمہ داری انصار اللہ پر عائد ہوتی ہے۔وہ احمدی خاندانوں کے باپ ہیں۔گو بہت سارے خدام بھی باپ ہیں اور ان کی بھی ذمہ داریاں ہیں لیکن بہت سے خدام ایسے باپ ہیں جن کے اپنے والد بھی موجود ہیں۔پس اگر چہ ذمہ داری بٹ جاتی ہے تاہم ہزاروں ایسے انصار ہیں جو خود ہی اپنے خاندان کے ذمہ دار ہیں۔انصار میں الا ماشاء اللہ کوئی ایسا احمدی بھی ہو شاید ہزار میں ایک جس کا کوئی اور سر پرست ہو۔ایسے بہت کم ہوں گے ممکن ہے کوئی نہ ہو۔میرے دماغ میں بعض ایسی مثالیں بھی آتی ہیں۔مگر اس استثناء کے بغیر سارے انصار ہی ایسے ہیں جو اپنے اپنے خاندان کے سر پرست ہیں۔پس انصار اللہ چونکہ اپنے اپنے خاندان کے سر پرست ہیں اس لئے اُن پر دوذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ایک یہ کہ ہر خاندان کا ہر فر دارد و پڑھنا جانتا ہو۔ہمیں جماعت میں تعلیم کا یہ کم سے کم معیار قائم کرنا پڑے گا ورنہ وہ برکتیں جو قرآن کریم کے ذریعہ ہمیں ملی ہیں اور جو سمندروں سے بھی زیادہ ہیں ، اُن