سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 321
321 سبیل الرشاد جلد دوم کی تعلیم کا مسئلہ ہے۔غرض اسی طرح کے اور بہت سے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔لیکن یہ مسائل آج سے چار سو سال پہلے بھی نہیں تھے۔چودہ سو سال پہلے بھی نہیں تھے۔پس قرآن کریم کی وہ تعلیم جو ان مسائل کو حل کرنے والی ہے ، ضروری نہیں تھا کہ پہلی صدی میں وہ انسان کو بتائی جاتی اور اگر بتائی بھی جاتی تو کسی کو سمجھ ہی نہ آتی کیونکہ اُس وقت ایک گاؤں میں جو ایک خاندان کپڑا بن رہا تھا یا دوخاندان کپڑا بن رہے تھے ، وہ یہ سمجھ ہی نہیں سکتے تھے کہ یہ کیا مسئلہ ہے جس کا حل انہیں بتایا جا رہا ہے۔اُن کے سامنے کوئی مسئلہ نہیں تھا اور کوئی اُلجھن نہیں تھی جس کو سلجھانے کی ضرورت پڑتی۔پس قرآنی تعلیم چونکہ اپنے زمانہ کے لحاظ سے قیامت تک ممتد ہے اس لئے اس کے دو پہلو ہیں۔اس کا ایک پہلو وہ ہے جسے قرآن کریم کی اصطلاح میں کتاب مبین کا حصہ کہا گیا ہے یعنی قرآن کریم کی ایسی تعلیم جو وضاحت سے بیان کر دی گئی ہے اور جو مسائل ضرور یہ ہیں اُن کے متعلق ہمیں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اس طرح کرنا ہے اور اس طرح نہیں کرنا۔قرآن کریم کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کی تعلیم کتاب مکنون ( چھپی ہوئی کتاب ) کا حصہ ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: في كِتَبٍ مَّكْنُونِ لا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ 6 قرآن کریم کے رُوحانی اسرار کا یہ حصہ جس کا تعلق کتاب مکنون سے ہے، یہ زمانہ زمانہ میں ظاہر ہوتا رہتا ہے۔جس طرح ایک لکھی ہوئی کتاب کا ورق الٹایا جاتا ہے۔اسی طرح قرآن کریم کی تفسیر کا ورق ورق اُلٹا جاتا ہے اور ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق لا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کی رُو سے مطہر بندے، پاک دل ، پاک فطرت اور پاک رُوح بندے ایسے ہوتے ہیں جن کا خود خدا معلم بنتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ۔قرآن کریم کے اسرار سیکھتے اور زمانہ کی ضرورتوں کو حل کرتے ہیں اور قرآن کریم پر یہ اعتراض قائم نہیں رہنے دیتے کہ کوئی سر پھرا یہ کہہ دے کہ وہ کتاب جو آج سے دو سوسال پہلے یا چارسوسال پہلے یا ہزار سال پہلے یا چودہ سو سال پہلے نازل ہوئی تھی ، وہ آج کے مسائل کو کیسے حل کرے گی۔آج کل بھی بعض لوگ یہ کہہ دیتے ہیں۔بلکہ خود اسلام کی طرف منسوب ہونے والوں میں سے بھی بعض لوگ یہ کہہ دیتے ہیں اور جو لوگ اسلام کی طرف منسوب نہیں ہوتے وہ تو اس کو ایک بڑا وزنی اعتراض سمجھتے ہیں کہ چودہ سوسال پہلے جو کتاب نازل ہوئی ، وہ چودھویں صدی کے مسائل کو کیسے حل کرے گی۔اس کا جواب خود قرآن کریم میں موجود ہے اور وہ یہ کہ یہ اس طرح حل کرے گی کہ تعلیم تو ہو گی مگر پہلے بیان نہیں کی گئی ہوگی۔یعنی خود قرآن کریم میں وہ تعلیم موجود ہوگی لیکن بوجہ ضرورت کے نہ ہونے کے وہ تعلیم کھول کر خدا کے بندوں کو سورۃ الواقعہ آیت ۷۹-۸۰