سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 320
سبیل الرشاد جلد دوم 320 یاد دہانی کروانا مومن کی علامت ہے قرآن کریم کی صداقتیں ابدی صداقتیں ہیں اور یہ تعلیم ایک مومن پر واضح ہے لیکن اس کے با وجود خود قرآن کریم ہی نے ہمیں یہ حکم دیا ہے : وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ۔کہ آپس میں ایک دوسرے کو یاد دہانی کراتے رہا کرو کیونکہ یاد دہانی مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔منافق اور غیر مومن کو یہ فائدہ نہیں دیتی۔غرض یاد دہانی کروانا اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ یہ مومن ہیں جن کو مخاطب کیا جا رہا ہے اس بات کی علامت نہیں ہوتی کہ یہ منافق ہیں یا دینی لحاظ سے کمزور ہیں یا روحانی اور اخلاقی طور پر دل کے مریض ہیں جن کو کچھ نصیحت کے طور پر بتایا جارہا ہے پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ذکر میں مومن ہی مخاطب ہیں۔اور چونکہ بیچ میں تین سال کا وقفہ پڑ گیا۔اس لئے جہاں تک انصار اللہ کا تعلق ہے اس عرصہ میں ہم اپنے اجتماع میں ذکر کے حکم پر عمل نہیں کر سکے۔اور اب چوتھے سال ہم یہاں مل بیٹھے ہیں اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق عطا فرمائی ہے کہ ہم اس حکم پر عمل کریں۔قرآن کریم کی شریعت اور اس کے بعض پہلوؤں کو آپ کے سامنے رکھیں اور بتائیں کہ اسلامی تعلیم کس طرح انسان کی انفرادی اور قومی زندگی میں ایک زبر دست انقلاب پیدا کر دیتی ہے۔ہے۔قرآن کی تعلیم قیامت تک کے لئے ہے قرآن کریم کا بنیادی پہلو یہ ہے کہ اس کی تعلیم چونکہ قیامت تک کے لئے ہے اور چونکہ زمانہ کے ساتھ ساتھ حالات بدلتے رہتے ہیں اس لئے قیامت تک کے حالات شروع زمانہ میں ایک ہی وقت میں انسان کو بتائے ہی نہیں جا سکتے تھے کیونکہ جب مسائل نہیں تھے تو اُن کا حل انسان کے سامنے کیسے رکھا جا سکتا تھا۔اگر اُس وقت مسائل بتا دیے جاتے تو کسی کو سمجھ ہی نہ آتی۔مثلاً پہلے زمانہ میں ایک گاؤں میں ایک خاندان یا اگر گاؤں بڑا ہے تو دو خاندان کھڈیاں لگاتے تھے اور گاؤں کی کپڑے کی ضرورت کو پورا کر دیتے تھے اور اب یہ زمانہ ہے جس میں یورپ میں کپڑا بننے کے ایک ایک کارخانے میں دس دس پندرہ پندرہ ہزار مزدور کام کر رہے ہیں اور ایک کارخانے میں مزدوروں کا اتنا بڑا اجتماع بہت سے مسائل پیدا کر دیتا ہے۔مثلاً اُن کی رہائش کا مسئلہ ہے ، اُن کی طبی ضرورتوں کو پورا کرنے کا مسئلہ ہے، اُن کے بچوں سورۃ الد ریت آیت ۵۶