سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 15 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 15

15 سبیل الرشاد جلد دوم پڑھانے کے لئے ہمیں جتنے واقفین کی ضرورت ہے اتنے واقفین دیں۔اگر خدا تعالیٰ نے مجھے زندگی دی تو اس وقت تک میں آپ کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا جب تک کہ ساری جماعت کو قرآن کریم نہ پڑھا لوں۔انشاء اللہ العزیز۔اور جب تک آپ ضرورت کے مطابق واقفین نہ دینے لگ جائیں۔میں آپ کو جھنجھوڑتا رہوں گا۔بجائے اس کے کہ میں آپ کو زیادہ تنگ کروں۔آپ پر ناراض ہوں اور آپ کو جھنجھوڑ وں اور پھر آپ واقفین دیں۔آپ پہلے ہی واقفین دے دیں۔تاہم سب مل کر آرام کے ساتھ اپنے کام میں مشغول ہو جائیں۔پڑھے ہوئے کی دو تعریفیں ہیں۔ایک پڑھا ہوا وہ ہے جس کو انسان نے پڑھایا ہو۔اور ایک پڑھا ہوا وہ ہے جس کو خدا تعالیٰ نے پڑھایا ہو۔اور جس کو خدا تعالیٰ نے پڑھایا ہو۔وہ اس شخص کی نسبت جسے کسی انسان نے پڑھایا ہو۔زیادہ پڑھا ہوا ہے۔پس جب آپ خدا تعالیٰ کے شاگرد بننے کی نیت سے روانہ ہوں گے۔تو اللہ تعالیٰ آپ کے اس بھروسہ کو ضائع نہیں کرے گا۔آج میں نے کافی باتیں کر دی ہیں۔میرا دل تو نہیں چاہتا کہ میں آپ کے پاس سے اٹھ کر جاؤں۔لیکن اور بھی کام ہیں جو میں نے کرنے ہیں۔اور پھر کچھ بیمار بھی ہوں۔اگر ہو سکا تو انشاء اللہ پروگرام کے علاوہ بھی اس اجتماع میں حاضر ہوں گا۔ورنہ پروگرام کے مطابق ایک تو میری تقریر ہے ہی۔اس تقریر میں میں ایک بنیادی مسئلہ بیان کرنا چاہتا ہوں۔دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔