سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 314
314 سبیل الرشاد جلد دوم رب کو پہچانے لگیں اور اس کے قہر اور غضب کے طمانچے سے اپنے آپ کو محفوظ کر لیں۔پس جہاں تک دُعا کا تعلق ہے اس سلسلہ میں جو سب سے پہلی بات ہے۔وہ ہے ایک احمدی کے دل میں اس یقین کا پیدا ہونا کہ خدا تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور اس کے لئے کوئی چیز ان ہونی نہیں ہے۔دُعا کی بعض شرائط بھی ہیں اور وہ میں بتا دیتا ہوں کہ کیا ہیں۔بعض ایسی شرائط ہیں کہ عام طور پر لوگوں کے خیال میں نہیں آتیں۔اس دُنیا میں قانونِ قدرت کارفرما ہے۔خدا کا ایک عام قانونِ قدرت ہے جس پر ہماری سائنس، ہمارے علوم اور ہماری تحقیق کی بنیاد ہے۔یہ ایک عام قانون ہے۔عام طور پر آگ جلاتی ہے اور پانی ٹھنڈا کرتا ہے۔حتی کہ جم کر برف بن جاتا ہے یعنی پانی کے اندر خنکی ہے۔اس کی اپنی فطرت کے اندر خنکی ہے۔مثلاً آگ پر پانی اُبل رہا ہے۔اگر برتن اُلٹ جائے تو وہی آگ جس کے نتیجہ میں وہ اُبل رہا تھا اس کو بجھا دیتا ہے۔غرض یہ ایک عام قانون قدرت ہے۔لیکن اس کے پیچھے ایک اور قانون کام کر رہا ہے اور وہ بڑا زبر دست قانون ہے اور وہ قانون ہے کہ ہوگا وہی جو خدا چاہے گا۔عام قانون کے مطابق خدا چاہتا ہے کہ عام حالات میں عام قانون کے مطابق ہو، تا کہ انسان اِن علوم سے بے بہرہ نہ رہے۔قانون کے مطابق علمی ترقی کرے۔تحقیق کرے۔آگے بڑھے۔نئی چیزیں دریافت کرے۔نئی چیزیں بنائے۔اور ان سے فائدے اُٹھائے ہوائی جہاز بنائے۔ایٹم بنائے ( مگر خدا کرے غلط استعمال نہ کرے ) ستاروں پر کمندیں ڈالے، چاند پر جائے۔غرض یہ ساری کائنات ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں نے اسے اپنے بندوں کے لئے مسخر کیا ہے۔اب ہر انسان کا فرض ہے کہ وہ ان چیزوں کو سمجھے۔ان کو پر کھے اس کا علم پڑھے اور اصول سیکھے۔قانونِ قدرت پر اس کا علم حاوی ہو۔اس سے فائدہ اُٹھائے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے ان سب کے پیچھے ایک اور قانون چل رہا ہے۔جس کی رُو سے ہوتا وہی ہے جو خدا چاہتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مختصر سے اقتباس میں اسی طرف اشارہ فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں : اُس کی (اللہ تعالیٰ۔ناقل ) قدرت کی نسبت اگر کوئی سوال کیا جائے تو ا بجز آن خاص باتوں کے جو اس کی صفات کا ملہ اور مواعید صادقہ کے منافی ہوں باقی سب امور پر وہ قادر ہے۔اور یہ بات کہ گو وہ قادر ہو مگر کرنا نہیں چاہتا یہ عجیب بے ہودہ الزام ہے جبکہ اس کی صفات میں كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِى شأن (الرحمن: 30) بھی داخل ہے اور ایسے تصرفات کہ پانی سے برودت دُور کرے یا آگ سے خاصیت احتراق زائل کر دیوے۔اس کے صفات کا ملہ اور مواعید صادقہ کی منافی نہیں ہیں۔“ برکات الدعا صفحه ۳۲ روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۸ - ۲۹