سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 14
14 سبیل الرشاد جلد دوم طالب علم بھی تھا۔وہ آپس میں بحث کر رہے تھے۔بحث کے دوران ہمارے بی اے کے ایک احمدی طالب علم کو جواب نہ آیا تو وہ وہاں سے اٹھا اور کہنے لگا میں کسی مولوی کو لے آتا ہوں۔وہ ساتھ والے کمرہ میں گیا وہاں ایک زمیندار جماعت ٹھہری ہوئی تھی۔اس میں ایک زمیندار احمدی دوست تھے۔اب وہ فوت ہو چکے ہیں وہ نمبردار تھے اور اچھا سفید لباس پہنتے تھے اور سفید پگڑی پہنتے تھے۔ان کی خوبصورت داڑھی اور لباس دیکھ کر وہ نوجوان ان کے پاس گیا۔اس نے حلیہ دیکھ کر یہ سمجھا کہ یہ کوئی مولوی صاحب ہیں اور کہا۔اس طرح ہم بی اے کے دو طالب علم آپس میں بحث کر رہے تھے مجھے ایک سوال کا جواب نہیں آیا۔آپ وہاں آ کر وہ سوال سمجھا دیں۔چنانچہ وہ دوست وہاں گئے اور انہوں نے غیر احمدی طالب علم کو ایسا جواب دیا کہ وہ خاموش ہو گیا۔اور آپ کو پتہ ہے کہ وہ کتنا پڑھے ہوئے تھے۔وہ بالکل ان پڑھ تھے اور دستخط کرنا بھی نہیں جانتے تھے۔تو اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی چیز ناممکن نہیں ہے۔وہ تو آپکے دل کو دیکھے گا، آپ کی نیتوں پر اسکی نگاہ ہوگی آپکی ذہنی کیفیت اسکے سامنے ہوگی اور اسکے مطابق وہ آپ سے سلوک کرے گا۔واقفین عارضی نے جو اچھا کام کیا ہے اس میں سو فیصدی بلا استثناء ان لوگوں کا کام اچھا ہے جنہوں نے دعاؤں پر زور دیا ہے۔وہ پڑھے ہوئے تھے یا ان پڑھ تھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔واقفین عارضی میں بڑے پڑھے ہوئے بھی گئے۔ان میں کئی ایم اے پاس تھے۔ایم۔اے پاس وہ بھی گئے جن کے کام کا بہت اچھا نتیجہ نکلا۔اور ایم اے پاس وہ بھی گئے جن کے کام کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔اور بالکل ان پڑھ وہ بھی گئے جو صرف سیر کر کے آگئے ہیں۔لیکن یہ لوگ ہیں بہت کم۔شاذ کی طرح ہیں۔اس سے مجھے بہت خوشی ہوئی ہے۔لیکن ایسے لوگ ہیں ضرور۔اور پھر ایسے ان پڑھ بھی گئے ہیں جنہوں نے اپنی کیفیت کو دیکھ کر اور اپنے علم کو دیکھ کر دعاؤں پر زور دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے کام کا بڑا اچھا نتیجہ پیدا کر دیا۔پس آپ اس خیال سے گھبرائیں نہیں کہ آپ زیادہ پڑھے ہوئے نہیں۔اگر آپ زیادہ دعا گو ہیں، اگر آپ اپنے رب کی طرف زیادہ توجہ کرنے والے ہیں، اگر آپ اللہ تعالیٰ پر کامل تو کل اور کامل بھروسہ رکھنے والے ہیں تو آپ یقیناً کامیاب ہوں گے۔غرض زمیندار دوست بغیر کسی ہچکچاہٹ کے آگے آئیں۔اس عرصہ میں میں سمجھتا ہوں سو فیصدی نہیں تو ۸۰ فیصدی وفود کی رپورٹ یہ تھی جو انہوں نے عرصہ پورا ہو جانے کے بعد زبانی بیان کی ، یا انہوں نے تحریری رنگ میں ارسال کی کہ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے دوسروں کو کوئی فائدہ پہنچایا ہے یا نہیں لیکن ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں اس عرصہ میں بہت فائدہ پہنچا۔ہمیں بڑی دعاؤں کا موقع ملا۔ہمیں خدا تعالیٰ کے نشانات دیکھنے کا موقع ملا۔غرض ایک طرف تو قرآن کریم پڑھانے کی طرف سو فیصدی توجہ دیں۔دوسرے قرآن کریم