سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 303 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 303

سبیل الرشاد جلد دوم and believes in the citizens the Country having equal right 303 اور دستو ر اس بات میں یقین رکھتا ہے اور یہ اس کی رُوح ہے کہ پاکستان کے ہر شہری کے ایک جیسے حقوق ہیں اُن میں کوئی امتیاز نہیں برتا جاسکتا اور اس کے بعد وہ کہتے ہیں : Every Pakistani has a right to profess his religion proudly with Confidence and without Fear کہ ہر پاکستانی کا یہ حق ہے کہ وہ جس مذہب پر چاہے ، اُس پر فخر کے ساتھ اعتقاد ر کھے اور کسی سے نہ ڈرے۔بلا خوف و خطر یہ اعلان کرے کہ میرا یہ مذہب ہے اور یہ اس لئے کہ ہم ماڈرن ٹائمنر میں رہتے ہیں۔اگر ہم اس کے علاوہ کوئی اور بات کہہ دیں تو ساری دنیا میں شور پڑ جائے گا۔ہمارے پرائم منسٹر صاحب بڑے صاحب فراست ہیں۔اُن کے اس قول کے مطابق میں یہ کہہ رہا ہوں کہ دُنیا کی جو مرضی ہے وہ ہمیں کہے لیکن دُنیا کی کوئی طاقت ایک احمدی کو اس بات پر مجبور نہیں کر سکتی کہ وہ اپنے آپ کو ایک غیر مسلم سمجھے۔۷ ستمبر کے اُسی دن جس دن یہ ترمیم پاس ہوئی تھی بھٹو صاحب نے گارنٹی دی اور ساری دُنیا کو مخاطب کر کے بڑے واضح الفاظ میں کہہ دیا ( ماڈرن ٹائمنز میں جو رہتے ہیں ) کہ ہم نے تو احمدیوں کو یہ کہا ہی نہیں کہ تم اپنے آپ کو غیر مسلم سمجھو۔ہم نے تو یہ کہا ہے کہ فخر سے اپنی گردنیں اُٹھاؤ اور بغیر کسی خوف و خطر اپنے مذہب کا اعلان کرو۔ہر احمدی یہ کہتا ہے کہ میرا مذہب اسلام ہے تو آپ کو کون روک سکتا ہے کہ آپ اپنے مذہب اسلام کا انکار کریں یا یہ کہہ دیں کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں۔لیکن اس بات کا کیا علاج ہے کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم احمدی خود کو مسلمان سمجھتے ہیں اور اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتے ہیں تو ہمارا مخالف کھڑا ہو جاتا ہے اور وہ یہاں تک لکھ دیتا ہے کہ احمدیوں نے دستور سے بغاوت کی ہے۔اگر دستور سے کوئی بغاوت ہوئی ہے تو ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو خود پرائم منسٹر صاحب کر چکے ہیں۔احمدیوں نے بغاوت نہیں کی۔لیکن ۷ ستمبر کو پرائم منسٹر صاحب (Prime Minister) نے بھی بغاوت نہیں کی بلکہ ایک سچی بات تھی جس کا انہوں نے اُس دن اعلان کر دیا۔غرض ہر احمدی جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے وہ بھی دستور سے بغاوت نہیں کرتا۔ہر احمدی کا یہ دستوری حق ہے کہ وہ اپنے مذہب کا اظہار کرے۔دستور نے زیر دفعہ ۲۰ ہر شہری کو یہ حق دیا ہے کہ ہر شخص کا جو عقیدہ ہے وہ رکھے۔اس کا اعلان کرے۔اس کی تبلیغ کرے اور یہ ہمارے پرائم منسٹر صاحب نے انتہائی فراست کے ساتھ اُس دن یہ اعلان کیا کہ اس فیصلہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہ سیکولر ہے۔گویا ہر احمدی کا یہ حق ہے کہ وہ کھڑے ہو کر فخر کے ساتھ گردن اونچی کر کے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرے اور کسی سے نہ ڈرے۔اس لئے کہ ہم زمانہ حاضرہ میں رہنے والے