سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 284
284 سبیل الرشاد جلد دوم ہم ان کو نہیں مانتے۔چنانچہ ہر فرقہ آپس کی جنگ بُھول کر حضرت مہدی معہود علیہ السلام کے خلاف اکٹھا ہو گیا۔یہ عجیب وجہ اتفاق ہے۔بریلویوں نے کہا کہ چونکہ اُن کے بعض عقائد سے اختلاف رکھنے والا مہدی آ گیا ہے اس لئے وہ اسے تسلیم نہیں کرتے۔اور دیوبندیوں نے کہا کہ چونکہ اُن کے بعض عقائد سے اختلاف کیا گیا ہے اس لئے وہ اسے قبول نہیں کرتے۔حالانکہ خود بریلوی دیوبندیوں کے اُن عقائد سے متفق نہیں اور دیوبندی بریلویوں کے اُن عقائد سے اتفاق نہیں کرتے لیکن سب نے اکٹھے ہو کر اعتراض کر دیا اس ایک شخص پر جو غلبہ اسلام کے لئے کھڑا ہوا تھا اور جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حَكَمُ قرار دیا تھا۔یہ سب اسلام کے غلبہ کی راہ میں روک بننے کے لئے اکٹھے ہو گئے اور اُس کے مشن کو نا کام کرنے کے لئے اُس پر حملہ آور ہو گئے۔غرض لوگوں نے یہ نہ سوچا کہ جس کی مخالفت پر وہ کمر بستہ ہیں اُسے تو حکم قرار دیا گیا ہے اس کا تو کام ہی یہ ہے کہ دنیا خواہ ناراض ہو خدا کا منشاء پورا ہو۔صرف ایک ہی ذات ہے جس کو خوش کرنے کے لئے وہ آیا ہے۔اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے معلم حقیقی خدائے واحد و یگانہ کی ذات بابرکات ہے۔باقیوں کی اُس نے نہ پر واہ کرنی تھی اور نہ کی۔اور نہ ہم اُس کے متبع ہی حق وصداقت کے مقابل کسی کی پرواہ کرتے ہیں۔پس قرآن کریم کو مہجور بنا کر اس قسم کے بھیانک حالات پیدا ہو گئے کہ جو پہلے کہا گیا تھا لوگ اُسے بھی بھول گئے۔مثلاً حروف مقطعات کی تفسیر کی جاچکی ہے اور پُرانی تفسیر کی کتابوں میں شائع شدہ موجود ہے مگر کہتے ہیں مقطعات کی تفسیر کرنا کفر ہے۔بہت بڑا ظلم ہے۔اس سے تو آدمی واجب القتل بن جاتا ہے۔اب اس قسم کا جھوٹا اور غلط الزام لگایا جاتا ہے مگر کوئی شخص کھڑا ہو کر یہ نہیں کہتا کہ ہوش کرو کیوں جھوٹی باتیں کر رہے ہو۔پھر کہہ دیا گیا کہ احمدیوں نے قرآن میں تحریف کر دی ہے۔کیا تحریف کی ہے کوئی نہیں بتا تا۔یہ بھی عجیب بات ہے۔جن لوگوں نے قرآن کریم میں پانچ سو آیات منسوخ کر دیں وہ تو بزرگ ٹھہرے اور سچے مسلمان ! لیکن جو قرآن کی آیات کو منسوخ نہیں سمجھتے اور جو نسخ کے قائل نہیں وہ لوگوں کے نزدیک تحریف کے مرتکب اور اسلام کے دشمن ہو گئے۔پرانی تفسیروں میں ” یہودی روایات کے چھپنے کی بھی اجازت ہے اُن کے پڑھنے کی بھی اجازت ہے۔حتی کہ اُن کو پڑھ کر اور از بر یاد کر کے آدمی علامہ بھی بن جاتا ہے۔یہ سب کچھ تو جائز ہے لیکن اگر قرآن کریم کی ایسی تفسیر کی جائے جس میں اللہ تعالیٰ کا منشاء اور حالات حاضرہ میں قرآن کریم کی رہنمائی کا ذکر ہے اور غلط روایات کا محاکمہ کیا گیا ہو تو وہ نا جائز۔یہ کیسی اسلام دوستی ہے؟ جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں مسلمان راویوں اور مفسرین نے