سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 281
سبیل الرشاد جلد دوم 281 لا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ یعنی قرآن کریم کے کتاب مکنون والے حصے کو مظہر بندوں کے سوا اور کوئی چھو نہیں سکتا۔ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔قرآن کریم کی پہلوں نے جو تفسیریں کیں اُن کے دو حصے ہیں۔ایک وہ تفسیر جس میں کئی باتیں روا یتا بیان کر دی گئیں۔اور ایک وہ تفسیر ہے جس میں مفسرین نے قرآن کریم اور اس کے معانی اور تفسیر کو خود سمجھ کر بیان کیا ہے۔ظاہر ہے ایسی تفسیری کتب جن میں بہت سی باتیں روایتاً درج کر دی گئی ہیں۔اُن کے اندر کمزوری پائی جاتی ہے۔مثلاً یہ لکھ دیا گیا کہ نعوذ باللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جھوٹ بولا اسی قسم کی اور بھی کئی روایات بیان کر دیں جن میں دوسرے انبیاء علیہم السلام پر اتہامات لگائے - گئے ہیں۔اب ایسی تفسیر تو آج کے علماء ظاہر کو قابل قبول ہے۔جس میں انبیاء علیہم السلام پر تہمتیں لگائی گئی ہیں۔لیکن وہ تفسیر قابل قبول نہیں جس کی تفسیر میں نہ صرف تمام انبیاء کو معصوم قرار دیا گیا ہے بلکہ جس کے نتیجہ میں دُنیائے عیسائیت کو یہ چیلنج دیا گیا ہے کہ اگر تم سورۃ فاتحہ کے معانی کے مقابلے میں اپنی پوری تو رات میں سے سورۃ فاتحہ میں مذکور روحانی اسرار نکال دو تو ہم سمجھیں گے کہ تمہارے ہاتھ میں کچھ ہے۔یہ حسین تفسیر تو رڈ ہونے کے قابل مگر یہ چیز قبول کرنے کے قابل کہ فلاں نبی نے یہ جھوٹ بولا اور فلاں نبی نے یہ گناہ کبیرہ کیا۔اگر ہم حسن ظنی سے کام لیں تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایسی روایات دراصل آنے والی نسلوں کو یہ بتانے کے لئے تھیں کہ قرآن کریم کی بعض تفسیری روایات کے بارہ میں سوچ سمجھ سے کام لینا۔ساری روایات قبول کرنے کے قابل نہیں ہوتیں۔چنانچہ بعض مجد دین جنہوں نے اپنے اپنے وقتوں میں بڑے معرکۃ الآراء کارنامے انجام دیئے انہوں نے اپنے ماننے والوں میں یہ اعلان کر دیا ( خود میں نے اس قسم کا اعلان پڑھا ہے ) کہ اس قسم کی تفاسیر کو نہ پڑھو کیونکہ ان میں ہر قسم کا رطب و یابس جمع کر دیا گیا ہے۔پس یہ عجیب بات ہے کہ جو آج کی تفسیر ہے یعنی مہدی معہود علیہ السلام نے خدا سے سیکھ کر جو تفسیر بیان فرمائی ہے۔اس پر تو لوگ اعتراض کرتے ہیں مگر جنہوں نے خدا سے سیکھے بغیر اس قسم کی باتیں بھی ریکارڈ کر دیں جورڈ کے قابل ہیں اُن کو قبول کر لیتے ہیں۔بے شک تم حسن ظن سے کام لو۔ہم بھی حسنِ ظن سے کام لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضلوں اور رحمتوں سے ایسے مفسرین کو بھی بہترین جزا دے جنہوں نے اس قسم کے اعتراضات بھی لکھ دیئے جورڈ کے قابل ہیں۔میں سمجھتا ہوں یہ تمہارے سامنے رکھے ہی اس لئے گئے تھے کہ ہر اسلامی ضمیر اسلام کا ہر تربیت یافتہ اور بیدا ر ضمیر ان چیزوں کو رڈ کر دے اور بخاری جلد ۴ صفحه ۱۴۶ امصری و ترمذی جلد۲ صفحه ۱۴۶ مجتبائی - تفسیر ابن کثیر زیر آیت بَلْ فَعَلَهُ كَثِيرُ هُمُ (الانبياء: ۶۴) تفسیر معالم التنزیل جلد ۲ صفحه ۳۵ - صفحہ ۱۲۸ - صفحہ ۱۷۵ جلد اول - جلالین مع کمالین وغیرہ صفحہ ۳۷۹ تفسیر ابن جریر طبری جلد ۳ صفحه ۳۵۹