سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 261
ا 261 سبیل الرشاد جلد دوم کے ساتھ اس جنگ کی آخری جھڑپ اور اس عظیم جنگ کی آخری لڑائی شروع ہو چکی۔اور یہ ایک حقیقت ہے سوچنے والا دماغ اور علم رکھنے والا ذہن اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ یہ آخری لڑائی ہے۔اس جنگ عظیم کی جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ ہے اور جسے مہدی نے اور آپ کی جماعت نے لڑنا تھا۔اگر یہ حقیقت ہے تو ہم جو مہدی کی طرف منسوب ہونے والے اور اپنے آپ کو شیطان سے اس آخری لڑائی لڑنے والی فوج کے سپاہی گرداننے والے ہیں ہم پر کتنی عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اتنی عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔اُسی طرح جس طرح طاغوتی طاقتوں کا اکٹھے ہو کر اسلام پر حملہ آور ہونے کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔یہ جنگ آج سے کچھ عرصہ پہلے شروع ہوئی۔میں نے اپنے بچوں اطفال الاحمدیہ کو بھی اُس وقت جو میرے ذہن میں آیا تھا بتایا تھا کہ یہ جنگ اُس وقت شروع ہوئی کہ جب دُنیا کی تمام شیطانی طاقتیں اسلام پر اس رنگ میں یلغار کر رہی تھیں اور اسلام کی طرف سے مدافعت کا فقدان اس طور پر تھا کہ شیطانی طاقتوں کو یہ یقین ہو گیا کہ وہ کامیاب ہوں گی۔اور اسلام کو ہمیشہ کے لئے مٹا دیا جائے گا۔چنانچہ ہمارے پاس اس قسم کے بیسیوں حوالے موجود ہیں۔ان حوالوں کا تعلق مہدی معہود کی بعثت سے معا پہلے کے زمانہ سے ہے۔شیطانی طاقتوں نے جو اسلام پر حملہ آور ہو رہی تھیں ایک طرف یہ کہا کہ وہ دن آنے والا ہے کہ جب ملک ہند میں ایک مسلمان بھی باقی نہیں رہے گا۔اور اگر اس زمانہ میں کسی کے دل میں کبھی یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کسی مسلمان کی شکل دیکھے تو اُس شخص کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔کیونکہ کو ئی مسلمان ہی نہیں رہے گا۔دوسری طرف ان طاقتوں نے یہ اعلان کیا کہ عنقریب بر اعظم افریقہ خداوند یسوع مسیح کی گود میں ہوگا اور وہاں سے بشمول اسلام ہر دوسرا ازم (Ism) اور مذہب اور عقیدہ مٹا دیا جائے گا۔اور تیسری طرف انہوں نے یہ اعلان کیا کہ وہ وقت آ رہا ہے کہ جب مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر خداوند یسوع مسیح کا جھنڈا لہرائے گا۔اسلام پر اس قسم کی یلغار تھی۔اتنا ز بر دست حملہ تھا اور ان کو اسلام کا دفاع کرنے والا کوئی نظر نہیں آ رہا تھا۔اس لئے وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ ہم کامیاب ہو جائیں گے۔اُس وقت اُس نازک وقت میں خدا وند تعالیٰ نے جو اپنے دین کی حفاظت کرنے والا ہے اور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والوں کو کبھی لاوارث نہیں رہنے دیتا اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی۔اور مہدی معہود مبعوث ہو گئے اور اس طرح اس نازک وقت میں اس شخص نے جو ایک وقت میں اکیلا تھا اسلام کے دفاع کا بیڑا اُٹھایا۔اور پہلے تن تنہا اور بعد میں اپنے گر د جمع ہونے والوں کی تربیت کر کے ایک بہت ہی مختصر اور چھوٹا سا گروہ پیدا کیا۔پھر اس تربیت کے نتیجہ میں اس گروہ کی تعداد کو بڑھاتے