سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 9 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 9

9 سبیل الرشاد جلد دوم اس کا پتہ نہیں لگ سکتا۔اس کی ایک خصوصیت یہ تھی۔آپ خود اندازہ کر لیں کہ وہ کیا چیز تھی۔رمضان کا مہینہ آیا تو گھر سے ہمیں گھی آتا تھا ہم پر اٹھے پکواتے تھے۔اگر یہ پراٹھا باقاعدہ اس طرح پکایا جائے یہ جیسے عام طور پر پکایا جاتا ہے اور پھر اسے ایک آدھ گھنٹہ پلیٹ میں رکھا جائے تو سارا کبھی نیچے چلا جاتا تھا اور سوکھی روٹی اوپر رہ جاتی تھی۔عجیب قسم کا وہ معجون تھا۔واللہ اعلم کس چیز سے وہ بنا ہوا تھا۔لیکن وہاں بھی میرے دل میں یہ غیرت پیدا ہوئی کہ ہم چوری کر کے یا ڈاکہ مار کے یا کوئی قتل کر کے جیل میں نہیں آئے۔ہم تو خدا کے نام پر یہاں آئے ہیں اس لئے ڈاکٹر کا بھی احسان نہیں لینا۔ڈاکٹر ہمیں بہت اچھا ملا ہوا تھا وہ روزانہ پوچھتا تھا کہ میاں صاحب کوئی تکلیف ہو تو بتائیں۔اور جیل کے ڈاکٹر کو بڑے اختیارات ہوتے ہیں اگر وہ زردہ پلاؤ بھی لکھ دے تو جیل والوں کو دینا پڑتا ہے۔وہ بلا ناغہ مجھ سے پوچھتا تھا اور میں بلا ناغہ یہ جواب دیتا تھا کہ کسی چیز کی ضرورت نہیں کیونکہ میں نے عہد کیا ہوا تھا کہ کھانے پینے کا خیال تو ویسے ہی فضول ہے اگر مجھے دوائی کی ضرورت پڑی تو میں نے وہ بھی اس ڈاکٹر سے نہیں لینی۔چنانچہ جیل میں ایک دفعہ میرا پیٹ خراب ہو گیا۔اس وقت میں نے ایک تو چبانے کا نسخہ استعمال کیا دوسرے پودینہ کا استعمال۔اگر پودینہ مل جائے اور وہ خوب دھلا ہوا ہو اس پر کوئی گند وغیرہ نہ ہو۔اگر ا اس کی دو پتیاں ہر لقمہ میں ڈال کر کھائی جائیں اور انہیں خوب اچھی طرح چبایا جائے تو یہ سوء ہضم کا بہترین علاج ہے۔اس میں ایسے اجزاء موجود ہوتے ہیں جو تعفن کو بھی دور کرتے ہیں اور معدہ کو بھی ٹھیک کرتے ہیں۔بیماریوں کا سستا علاج اس سے ضمناً ہمیں یہ بھی پتہ لگا کہ ڈاکٹر عام مریضوں پر بھی جو تین تین سو پانچ پانچ سو اور ہزار ہزار روپیہ خرچ کروا دیتے ہیں یہ بڑا ظلم ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے تحریک جدید کے خطبات میں ہی ایک جگہ فرمایا ہے کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ دنیا کی اکثر بیماریاں ایسی ہیں جن کا علاج ایک دھیلے یا ایک پیسہ سے ہو سکتا ہے۔اب قیمتیں چڑھ گئی ہیں۔تو دھیلے اور پیسہ کی بجائے آنہ اور دونی کر لیں لیکن اس وقت آنہ دونی کی بجائے پانچ سو یا ہزار روپیہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک والوں کی اکثریت ایسی ہے جو ڈاکٹر کے پاس جا ہی نہیں سکتی اور اگر ایک دفعہ چلی جائے تو پھر ساری عمر قرض سے نجات حاصل نہیں کر سکتی اس لئے وہ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہی نہیں۔نتیجہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص بیمار ہو اور اس کو دوا نہ ملے تو اس کی طبیعت میں بڑی بے چینی دود ھیلے کا ایک پیسہ، ۴ پیسے کا آنہ، دو آنے کی ایک دونی اور ۱۶ / آنے کا ایک روپیہ