سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 252 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 252

سبیل الرشاد جلد دوم 252 زیادہ ہے۔ایک جان ، ایک جسم ، ایک روح کے ساتھ ہم نے اپنی ذمہ داریوں کو نباہنا ہے۔اس واسطے ہمارے کام میں گہرائی بھی ہونی چاہئے۔اور ہمارے کام میں وسعت بھی ہونی چاہئے۔ہمیں ہر کام بہت اچھی طرح بھی کرنا چاہئے۔اور خوب پھیلا کر بھی کرنا چاہئے۔پھر جیسا کہ میں نے بتایا تھا کہ آپ خدمت بنی نوع کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور ہمارے عمل کا دائرہ اور حدودا پنی زندگی تک یا اپنے ملک کی زندگی تک محدود نہیں ہے بلکہ ہمارا دائرہ عمل عوام الناس کی زندگیوں کے دائرہ عمل اور دائرہ حیات تک ممتد ہے۔پس آپ ( یعنی انصار اللہ ) بھی اپنی خدمت کا دائرہ بڑھائیں اور میری ایک خواہش ہے اگر آپ پورا کر دیں تو شاید آپ کے سامنے اس خواہش کے اظہار کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ مجھ پر بھی رحم کرے اور آپ پر بھی رحم کرے گا۔وہ یہ ہے کہ پہلے مرحلے میں پاکستان کے ہر گاؤں میں کم از کم ایک قرآن کریم ہمارا چھپا ہوا پہنچ جانا چاہئے۔وہ سادہ ہو گاؤں کے حالات کے لحاظ سے یا وہ ترجمہ والا ہو۔مختلف جگہوں کے مختلف حالات ہوتے ہیں۔بعض ایسے گاؤں بھی ہیں جہاں ایک آدمی بھی قرآن کریم نہیں پڑھ سکتا۔یہ مسلمانوں کی بدقسمتی ہے ہماری دعا ہے اللہ تعالیٰ اس کو خوش قسمتی میں بدل دے۔بہر حال قرآن کریم کا کم از کم ایک نسخہ ہر گاؤں میں پہنچ جانا چاہئے۔یہ کوئی ایسا بڑا کام نہیں ہے۔اس طرح ستر اسی ہزار یا ایک لاکھ قرآن کریم کے نسخے تقسیم کرنے پڑیں گے۔اللہ تعالیٰ سامان پیدا کر رہا ہے۔ہماری بہنیں یعنی لجنہ کی جو ممبرات ہیں وہ آپ کے ساتھ ہر قربانی میں بھی شامل ہیں۔مثلاً فضل عمر فاؤنڈیشن ہے، نصرت جہاں ریز روفنڈ ہے یا دوسری مالی تحریکات ہیں وہ ان میں بھی شامل ہوتی ہیں۔اور یہ سوچنے والی بات ہے (میں اس کا اعلان تو نہیں کروں گا آپ کو صرف توجہ دلانا چاہتا ہوں ) کہ وہ بعض ایسے کام کرتی ہیں جن میں مردوں کو شامل نہیں کرتیں اور خود آگے نکل جاتی ہیں۔لیکن مرد کوئی ایسا نیکی کا کام نہیں کرتے (کم از کم اس وقت میرے ذہن میں نہیں ) یا خدا کی راہ میں قربانی کا کام نہیں کرتے جس میں اُن کو ( یعنی احمدی مستورات کو ) باہر نکال دیں۔اور کہیں تم اس میں شامل نہیں ہو سکتیں۔مثلاً انہوں نے اپنے چندے سے کئی مساجد بنوا دیں جس میں مردوں کا کوئی حصہ نہیں۔کل ہی انہوں نے اپنے پچاس سالہ جشن کے موقعہ پر قریباً ایک لاکھ روپیہ پاکستان کی لجنہ نے اور قریباً ایک لاکھ روپیہ غیر ممالک کی لجنہ نے اشاعت قرآن کریم کے لئے خلافت کے حضور پیش کر دیا۔گو انہوں نے کہا تو یہی ہے کہ جیسے آپ کی مرضی ہو خرچ کریں۔لیکن میری پہلی اور آخری مرضی یہی ہے کہ قرآن کریم کی ہمہ گیر اشاعت ہو۔لیکن یہ سوچنے والی بات ہے۔آپ بھی کوئی