سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 248
wwww 248 سبیل الرشاد جلد دوم فرمایا کہ شیطان تمہیں یہ کہتا ہے کہ ان احکام کو قبول کر کے اپنے لئے تنگی کے سامان پیدا کرو گے لیکن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو احکام لے کر آئے ہیں ان کی زندگی کو تم دیکھو۔تمہیں نظر آئے گا کہ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ تمہارا تکلیف میں پڑنا اس کی طبیعت پر شاق گذرتا ہے۔شیطان تمہیں کہتا ہے کہ یہ تو یقینی بات نہیں ہے کہ جو تمہیں کہی گئی ہے یعنی واز تَبتُم کہ شائد تمہیں ملے یا شائد تمہیں نہ ملے۔فرمایا اگر یقینی بات نہ ہوتی تو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت تمہیں قرآنی ہدایت پیش نہ کرتی کیونکہ آپ کی فطرت میں ہے حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ وہ تو تمہارے لئے خیر و برکت کا بھوکا ہے تم قربانیاں دینے سے اس لئے گھبراتے ہو کہ تمہیں شک ہے کہ ان کا اچھا نتیجہ نہیں نکلے گا اگر ان قربانیوں کا اچھا نتیجہ نہ نکلنا ہوتا تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت تمہارے سامنے ان قربانیوں کا مطالبہ نہ کرتی اس واسطے کہ آپ کی فطرت میں ہے کہ آپ کے لئے خیر و برکت کا متمنی ہو۔مگر شیطان تمہیں غَرتُكُمُ الْآمَانِيُّ - وَغَرَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ کی رو سے امید دلاتا ہے لیکن چونکہ شیطان تم سے محبت نہیں کرتا وہ تمہیں جھوٹی امید میں دلاتا ہے اور ہماری عقل یہ فیصلہ کرتی ہے کہ جو شخص کسی کو جھوٹی امید دلائے وہ محبت کرنے والا نہیں ہوتا۔جھوٹی امیدیں دلانے سے ، امید دلانے والے کی محبت ظاہر نہیں ہوتی۔بلکہ اس شخص کے ساتھ لاتعلقی یا ایک قسم کی دشمنی ظاہر ہوتی ہے۔وہ یہ کہتا ہے کہ جو مرتا ہے وہ مرے مجھے اس سے کیا غرض ؟ پس شیطان کی طرف سے یہ چیز تو ظاہر ہوتی ہے۔لیکن اس کا پیار ظاہر نہیں ہوتا۔لیکن حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تم یہ مشاہدہ کرتے ہو کہ آپ مومنوں کے ساتھ حد درجہ محبت کرنے والے تھے اور ان پر بہت کرم والے تھے اگر شیطان کی دلائی ہوئی امید میں اور جھوٹی طمع درست اور قابل اعتنا ہوتی تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت اس کی مخالف تمہارے سامنے کوئی بات نہ کرتی۔تمہارے سامنے ان وعدوں اور بشارتوں کا رکھ دینا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو رؤف اور رحیم ہیں یہ بتاتا ہے کہ ان میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔پس اے میرے بھائی! اگر ایک دشمن تیرے ہاتھ میں زہر کا پیالہ دے اور تجھے یہ پتہ نہ ہو کہ یہ زہر ہے۔یا تریاق ہے تو تیرے دل میں یہ شبہ پیدا ہوگا کہ میں اس کو پیوں یا نہ پیوں۔کیونکہ تُو جانتا ہے کہ وہ شخص تیرا دشمن ہے۔لیکن تیرا باپ تیرے ہاتھ میں ایک پیالہ دے اور کہے کہ یہ دوائی ہے کیا تو اس محبت کرنے والے باپ کی بات ماننے سے انکار کر دے گا؟ اور کیا تو یہ کہے گا کہ مجھے تو پتہ نہیں اس میں کیا ہے کیوں پتہ نہیں؟ یہ یقین تو اس خدا نے تیرے دل میں پیدا کیا ہے۔جس کے دست قدرت نے تیرے لئے شفا کا پیالہ پکڑا ہوا ہے۔اگر تو نے اس پیارے وجود صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی زندگی میں رافت اور رحمت کے نمونے دیکھے ہیں ، صرف اپنوں کے لئے نہیں بلکہ عالمین کے لئے رحمت کے نمونے