سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 239 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 239

سبیل الرشاد جلد دوم 239 (نعوذ باللہ ) موت کا دن ہے۔چنانچہ یہ اُس وقت کا منافق تھا جو یہ کہتا تھا کہ بس مسلمان مارے جائیں گے مگر اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اس قسم کے منافقانہ خیالات کا یہ جواب دیتا ہے کہ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ ) کہ ٹھیک ہے دشمن حملہ آور ہوا ہے اور تمہارے نزدیک ہماری یعنی مسلمانوں کی ہلاکت کے سامان پیدا ہو گئے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کا جو فیصلہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا اس چھوٹی سی جماعت کے ساتھ جو سلوک ہے اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ نہیں کرتے کہ دشمن ہلاک کرنے کے لئے آیا ہے۔بلکہ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں یعنی تمہارا یہ نظریہ ہے کہ اب ہم ہلاک ہوئے کہ ہوئے۔خدا تعالیٰ کے فضل کے باعث ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ تم دراصل دو اچھی باتوں میں سے ایک کا ہمارے لئے انتظار کر رہے ہو۔اگر تم یہ امید رکھتے ہو کہ ہم مارے جائیں گے تو یہ تو ہمارے لئے شہادت یا عزت کا موجب ہے۔شہادت کا اسلام میں بڑا درجہ ہے۔اس لئے وہ یعنی شہدا ء تو بڑے انعام کے وارث بنیں گے۔ناکامیوں کے وارث تو نہیں بنیں گے۔ان سے ان کے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کا سلوک تو نہیں کیا جائے گا۔بلکہ ان سے ایک شہید کا سلوک کیا جائے گا۔جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ ان کو مردہ بھی نہ کہو۔جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اتنی حسین اخروی زندگی عطا کی ، کون احمق ہے جو ایسے شخص کو مردہ کہے گا ان کو مردہ نہ کہو۔وہ زندہ ہیں۔بلکہ وہ دوسروں کو زندگی دینے والے ہیں یعنی وہ دوسروں کے لئے ایک اسوۂ حسنہ قائم کرنے والے ہیں۔دلوں میں ایک نو ر اور عقلوں میں ایک جلاء پیدا کرنے والے ہیں۔اس لئے ان کو تم مردہ نہ کہو۔فرمایا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ دشمن ہمیں مار کر ہلاک کر دے گا۔خدا کہتا ہے تم میں سے کفار کے ساتھ لڑتے ہوئے جو لوگ مارے جائیں گے وہ تو شہید ہوں گے ان کو مردہ نہیں کہا جاسکتا۔اور کچھ وہ ہوں گے جن کو شہادت نہیں ملے گی۔اور وہ کامیابی کے ساتھ واپس لوٹیں گے اور دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے پیار کی جنت میں وہ داخل ہوں گے اور دنیا ان کی زندگیوں میں جنت کے نظارے دیکھے گی۔منافق سمجھتے تھے کہ ہلاکت آنے والی ہے اور اس کا وہ انتظار بھی کر رہے تھے مگر مومن کو خدا نے کہا تم ان کو کہو تم إحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ کا انتظار کر رہے ہو۔ہماری ہلاکت کا دراصل انتظار نہیں کر رہے یا ہمیں شہادت ملے گی یا ہمیں کامیابی ملے گی۔ہلاکت کہاں سے آئے گی۔ہلاکت کے لئے تو ہم پیدا ہی نہیں کئے گئے۔ہلاکت ہمارے مقدر کی بات نہیں، تمہارے مقدر کی بات ہے۔پس ایک منافق کی ایک بنیادی علامت یہ ہے کہ وہ مخلصین کی ہلاکت کا انتظار کرتا ہے۔اپنی سورة التو به آیت ۵۲