سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 238
238 سبیل الرشاد جلد دوم اسلام کے لئے کوشش کر رہی ہے۔ان کو اپنی ریشہ دوانیوں سے کمزور یا ہلاک کر دیں گے یا نا کام کر دیں گے۔لیکن ان کو نظر آتا ہے کہ وہ ریشہ دوانیاں تو کرتے ہیں لیکن بے نتیجہ رہتی ہیں۔ان سے وہ مقصد حاصل نہیں ہوتا جو مقصد وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔چھ مہینوں کی کوششوں کے بعد وہ نتیجہ تو یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ چھ مہینے پہلے کے مقابلہ میں اس وقت جماعت کمزور ہو گی لیکن نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جماعت کہیں سے کہیں ترقی کر کے آگے نکل چکی ہوتی ہے۔پھر اُن کے چور دل یہ محسوس کرتے ہوئے کہ ہماری ریشہ دوانیاں نا کام ہو گئیں۔یہ امید لگاتے ہیں کہ کوئی آسمانی حادثہ نازل ہوگا۔اور اس جماعت کو ہلاک کر دے گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَابِرَ دوائر یعنی حوادث آسمانی کا وہ تمہارے لئے انتظار کر رہے ہیں کہ اس طرح جماعت مومنین ہلاک ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اُسے ہمارے سامنے کھول کر رکھا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے پیارے اور محبوب بندوں پر مصائب کے پہاڑ گرا دیتا ہے۔یہ تو صحیح ہے مگر یہ اس لئے نہیں ہوتا کہ وہ ان کو ہلاک کرے بلکہ اس لئے کہ وہ دنیا پر یہ ثابت کرے کہ یہ میرے محبوب بندے ہیں۔اور اگر ان پر کوہ ہمالیہ بھی گر پڑے گا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا مگر میرے یہ بندے نا کام نہیں ہوں گے۔پس منافق وہ ہے جس کے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ کوئی حادثہ ایسا رونما ہو جس کی وجہ سے جماعت ہلاک ہو جائے۔کوئی بیماری پڑ جائے یا آپس میں جھگڑے پیدا ہو جا ئیں یا کسی جماعت کے ٹوٹنے کے سامان پیدا ہو جا ئیں وغیرہ وغیرہ۔پتہ نہیں منافق کیا باتیں سوچتا ہوگا۔لیکن اس میں بھی وہ نا کام ہوتا ہے۔پھر جس وقت معاند اور دشمن اسلام، اسلام کو مٹانے کے لئے حملہ آور ہوتا ہے۔مثلاً جس وقت کفار مکہ ایک ہزار لشکر جرار کے ساتھ مدینہ پر حملہ آور ہوئے۔تو ان کے مقابلہ میں قریباً ایک تہائی مسلمان تھے اور قریباً نہتے تھے۔مسلمانوں کے پاس کفار کے مقابلہ میں فوجی ساز وسامان بھی بہت تھوڑا تھا۔اس وقت ایک منافق اس انتظار میں تھا کہ اب دشمن آ گیا ہے۔چمکدار تلواریں (سییوف ہندی اس وقت بڑی مشہور تھیں ) ان کے ہاتھ میں ہیں ، گھوڑے ہیں ، اونٹنیاں ہیں ، کھانے کا سامان ہے ، جتھہ ہے اتحاد ہے، مال و دولت ہے اور ان کے مقابلہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بالکل غریب پھٹے ہوئے کپڑوں میں ٹوٹی ہوئی اور زنگ آلود تلواروں کے ساتھ کفار کے ساتھ کیا لڑیں گے۔آج تو ان کے لئے سورة التو به آیت ۹۸