سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 237
سبیل الرشاد جلد دوم 237 تو یہ خیال نہیں پیدا ہوا کہ یہ ان کے متعلق کہا گیا ہے لیکن جس کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا اس کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے۔بہر حال اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ منافقوں کو سال میں ایک دو بار ضرور آزمائش میں ڈالنا چاہئے۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے منافق کی ایک بڑی آزمائش اور امتحان یہ ہے کہ قرآن کریم میں نفاق کے بارہ میں جو تعلیم دی گئی ہے۔اس پر تقریر کر دی جائے۔اس حکم کے ماتحت آج میں یہ تقریر کر رہا ہوں۔اور اس میں مومن اور منافق ہر دو کے متعلق انشاء اللہ کچھ کہوں گا۔وباللہ التوفیق۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن وہ بد قسمت منافق جن کے لئے ہر خیر کے دروازے کھولے گئے تھے مگر انہوں نے ہر خیر رب کریم کو ٹھکرا دیا۔جن کے لئے آسمان کے دروازے کھولے گئے تھے اور رفعتوں کے سامان پیدا کئے گئے تھے لیکن وہ اس زمین کی طرف اور زمین کے سامانوں اور زمین کے آراموں اور زمین کی آسائشوں کی طرف جھک گئے۔چنانچہ قیامت کے دن جس وقت ایک گروہ جہنم کی طرف جا رہا ہو گا تو مخلص مومن جنہوں نے خلوص کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دے کر اس کی رضا کو حاصل اور اس کی جنتوں کو پایا ہو گا۔منافق ان سے کہیں گے تم ادھر جا رہے ہو اور ہم ادھر، کیا بات ہے۔کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو جواب دیا جائے گا۔قَالُوا بَلی کہ ہاں ٹھیک ہے تم ظاہر میں ہمارے ساتھ تھے لیکن اندرونی طور پر ہمارے ساتھ نہیں تھے۔لیکن ہمارے ساتھ ہونے کے باوجو دفَتَنتُم اَنْفُسَكُمْ تم نے اپنے لئے خود اپنے ہاتھوں اور اپنی کرتوتوں اور اپنے اعمال اور بدنیتوں اور نفاق کے نتیجہ میں جہنم کے سامان پیدا کئے۔اس لئے بظاہر ہمارے ساتھ ہوتے ہوئے بھی تم ہمارے ساتھ نہیں رہے اور اس نتیجہ کے حقدار نہیں بنے جس کے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہم حقدار بنے ہیں۔ہمارے لئے اس کی رضا کی جنت ہے اور تمہارے لئے وہ ہے جسے تمہارے ہاتھوں نے کمایا ہے۔یہاں سورہ حدید کی اس آیہ کریمہ میں منافقوں کے متعلق تین بنیادی باتیں بیان کر کے ایک منافق اور مومن میں ایک امتیاز اور فرقان پیدا کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو کہا جائے گاتَرَبَّصْتُمْ تم نے ہماری ہلاکت کا انتظار کیا۔قرآن کریم میں تین قسم کی ہلاکتوں کے انتظار کا نمایاں طور پر ذکر کیا گیا ہے۔(ممکن ہے کوئی اور بھی ہو لیکن اس وقت میرے ذہن میں تین باتیں ہی آئی ہیں ) ایک خود منافقوں کی طرف سے منافقانہ ریشہ دوانیاں ہوتی ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے مومنوں کی جماعت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس مجاہد جماعت کو جو ساری دنیا میں اشاعت