سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 225 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 225

225 سبیل الرشاد جلد دوم واقعہ ہے۔یہاں ہوا یا وہاں ہو گیا۔بلکہ یہ واقعات ایسے ہیں جو ایک نظریہ کی نشاندہی کر رہے ہیں۔انہوں نے خدا تعالیٰ کو نہیں پہچانا لیکن انہوں نے خدا تعالیٰ کی خلق کو دیکھا اور انہوں نے زمین کو پیدا کرنے والے ، زمین کے اندر صفات کو پیدا کرنے والے خدا کو تسلیم نہیں کیا ، نہ اس کو پہچانا اور نہ اس کی صفات کی معرفت حاصل کی لیکن انہوں نے زمینی مخلوق کو پہچانا اور انہوں نے کہا یہاں تو بڑی گندم پیدا ہو و سکتی ہے، یہاں تو بڑے چاول پیدا ہو سکتے ہیں یہاں تو بہت کپاس پیدا ہوسکتی ہے یا دوسری فصلیں آگ سکتی ہیں۔یا یہاں کیلوں کے باغات لگائے جا سکتے ہیں یا ذرا اور نیچے چلے جائیں تو ہیرے جواہرات مل سکتے ہیں۔اور ذرا اور نیچے چلے جائیں تو ہم پیٹرولیم حاصل کر سکتے ہیں۔پس انہوں نے خدا کو نہیں پہچانا لیکن خدا کی مخلوق یعنی انسانوں کے علاوہ جو دوسری کائنات ہے اور جو ایک خاص غرض کے لئے بنائی گئی تھی۔اور جس میں خدا تعالیٰ نے بے شمار فائدے کی چیزیں رکھی تھیں۔انہوں نے ان سے فائدہ اٹھایا مگر اس کے جو حق دار تھے ان کو محروم کر دیا۔اب یہ ایک موٹی بات ہے اور اسے ہر عقل کا آدمی سمجھ سکتا ہے کہ جس نے کائنات کو پیدا کیا وہی بتائے گا کہ میں نے اسے کیوں پیدا کیا۔جس نے پیدا ہی نہیں کیا وہ کیسے بتا سکتا ہے کہ اس چیز کو کیوں پیدا کیا گیا ہے۔پس ہر چیز کے معاملہ میں خواہ وہ زمین سے تعلق رکھتی ہو یا آسمان سے تعلق رکھتی ہو۔اُس کا علم حاصل کرنے کے لئے خدا کی طرف متوجہ ہونا اور رجوع کرنا چاہئے تا کہ ہمیں پتہ لگے کہ وہ چیز کیوں پیدا کی گئی ہے۔پس یہ ایک نظریہ ہے جو میں نے بتایا ہے ، آگے پھر دوحصوں میں تقسیم ہو گیا ہے اور اسلام نے اس کو رڈ کیا ہے۔اسلام نے جو نظریہ ہمارے سامنے رکھا ہے اور جسے ہماری فطرت قبول کرتی اور ہماری عقل تسلیم کرتی ہے اور جس کے متعلق ہمارا رب ہمیں قرآن عظیم میں اپنی ہدایت اور شریعتِ کاملہ کی رُو سے فرماتا ہے وہ یہ ہے کہ۔كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تمہیں”الناس کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔سب بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے تمہیں پیدا کیا گیا ہے۔چونکہ عمل وہی شخص کرتا ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور قرآن عظیم پر ایمان لاتا ہے اس لئے اگر چہ قرآن عظیم کے مخاطب جنکی طرف قرآن نازل ہوا۔یعنی بنی نوع انسان ہیں۔لیکن جو لوگ ایمان لاتے ہیں وہی صاحب بصیرت بنتے ہیں۔اور عقل اور فراست سے کام لے کر اس شریعت کے اسرار اور رموز معلوم کرتے ہیں اور ان صداقتوں کو خود بھی پہچانتے ہیں اور دنیا کے سامنے بھی پیش کرتے ہیں۔پس أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کی رو سے فرمایا کہ ہر مسلمان کی زندگی کی سرحدیں اس کی اپنی زندگی پر جا