سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 212
سبیل الرشاد جلد دوم جس کے بغیر عقل مند انسان کی حسین اور پیاری زندگی ممکن ہی نہیں۔212 پھر فرما یا بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرَامٍ بَرَرَةٍ اور اس میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی ہے کہ اگر تم عزت حاصل کرنا چاہتے ہو اور نیکیوں میں ترقی کرنا چاہتے ہو، تو تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ قرآن کریم پر تمہارا Grasp ( گراسپ ) ہو۔عبور ہو (بائیڈنی میں اسی طرف اشارہ ہے ) اور قرآن کریم کے لکھنے اور پھیلانے میں تم کوشاں رہو۔کیونکہ اشاعتِ قرآن انسان کو نیک بھی ٹھہراتی ہے اور پاک بھی ٹھہراتی ہے اور باعزت بھی ٹھہراتی ہے۔جو آدمی قرآن کریم کو چھوڑتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں عزت نہیں پاسکتا۔اس لئے جو شخص اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں عزت پانا چاہتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں نیک ٹھہر نا چاہتا ہے تو اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے عمل اور اپنے فعل اور اپنے قول سے قرآن کریم کی اشاعت کرنے والا ہو۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے۔انصار اللہ کا یہ اولین فرض ہے کہ وہ اشاعت قرآن کے لئے کوشاں رہیں۔میں پھر دوبارہ بطور یاد دہانی آج یہ نصیحت اس لئے کرنا چاہتا ہوں کہ جب آپ واپس جائیں اور جہاں بھی آپ ہوں دعائیں کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے توفیق پا کر قرآن کریم کی اشاعت کی طرف متوجہ رہیں۔قرآن کریم کا مخاطب ہر انسان ہے جیسا کہ خود قرآن کریم نے بتایا ہے قرآن کریم جیسی عظیم کتاب کو مہجور بنانے والے لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔یعنی وہ اس کی کوئی پروا نہیں کرتے۔انہوں نے اس کو چھوڑ دیا ہے۔وہ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔وہ اپنی زندگیوں کے مسائل کا حل اس سے تلاش نہیں کرتے اور اس کے سہارے اس کے نور سے اپنی زندگیوں کو روشن کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔دنیا میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں۔جہاں بھی آپ کو ایسے لوگ ملیں۔آپ ان کو اس طرف متوجہ کریں کہ قرآن کریم کے بغیر تو مسلمان کی کوئی زندگی نہیں ہے۔ہر اس شخص کو جو اسلام کی طرف منسوب ہوتا ہے اور ہر اس شخص کے لئے جس کا یہ دعویٰ ہے کہ صاحب شریعت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار میرے دل میں ہے۔اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ قرآن کریم کو پڑھے اور اس کو سمجھے یعنی ترجمہ جانتا ہو اور اس پر غور کرنے کی عادت رکھتا ہو۔اس کے بغیر تو ایک مسلمان کی زندگی ہی نہیں اور اس کے بغیر جو مسلمان زندہ ہیں، خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ان کی زندگی زندگی ہی نہیں ہے۔دیکھو ہر انسان کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ وہ ایک حسین زندگی گزارے اور یہ صرف قرآن کریم ہی کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہے۔اس کے لئے خدا تعالیٰ نے انعام بھی مقرر کئے ہیں کیونکہ یہ ایک عظیم اور ہمیشہ قائم رہنے والی جد و جہد ہے اور ہرنئی نسل کے ساتھ جد و جہد کرنی پڑتی ہے۔یہ مجاہدہ کرنا پڑتا ہے