سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 171 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 171

171 سبیل الرشاد جلد دوم کوئی قابلیت، کوئی علم ، کوئی خوبی ، کوئی حسن اور احسان کی کوئی قوت نہیں رکھتے۔ہم لاشئی محض ہیں۔اس کا فضل جب قوت دیتا ہے تو ہم طاقتور بن جاتے ہیں۔اور جب وہ ہمیں علم دیتا ہے اور ہمارا معلم بن جاتا ہے تو عالمانہ اور محققانہ باتیں ہمارے منہ سے نکلتی ہیں۔جب وہ ہمارا مربی بنتا ہے تو ہمارے اخلاق اچھے ہو جاتے ہیں۔جب وہ معطی بنتا ہے تو انسان مٹی کو ہاتھ لگاتا ہے تو وہ سونا بن جاتی ہے۔بہتوں کے متعلق آپ نے سنا ہوگا کہ جس چیز کو بھی وہ ہاتھ لگاتے ہیں وہ مٹی بن جاتی ہے اور بہت سے ایسے بھی دیکھے ہوں گے کہ جس چیز کو بھی انہوں نے ہاتھ لگا یا وہ مٹی بن گئی۔اللہ تعالیٰ یہی بتاتا ہے کہ میں ہی معطی ہوں مجھے چھوڑ کر تم کون سی چیز حاصل کرو گے۔غرض وہ تعلق جس کے بغیر ہم اپنی ذمہ داریاں نباہ نہیں سکتے۔خدا کرے وہ زندہ تعلق ہمارے رب سے پیدا ہو جائے اور خدا کرے کہ حشر کے دن جب ہم خدا کے حضور پیش ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار سے ہم دھتکارے نہ جائیں بلکہ معصوم اور کمزور بچوں کی طرح اللہ کی محبت ہمیں اٹھا کر اس گروہ میں شامل کر دے کہ جس کے اوپر اس نے سعادت عظمی کے شامیانے لگانے ہیں۔اللہ پر ہی ہم سب کا بھروسہ ہے۔اب میں عہد دہراؤں گا۔پھر دعا کراؤں گا۔اور جب ہم سب مل کر دعا کر لیں گے۔تو اس کے بعد میں آپ سے السلام علیکم کہوں گا۔اللہ تعالیٰ ہر جگہ اور ہر حالت میں آپ کا حافظ و ناصر ہو۔آپ کا مربی بنے۔آپ کا ہادی ہوا اور آپ کا معطی اور محسن رہے۔اس کے بعد حضور نے عہد دہر وایا اور اس کے بعد فرمایا: ابھی آپ دوستوں نے کھانا کھانا ہے یہاں سے دعا کے بعد آپ ہال میں جہاں کھانا کھلانے کا انتظام ہے جا کر کھانا کھائیں گے اور منتظمین جو ہیں وہ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد مجھے اطلاع دے دیں۔میں نمازیں جمع کرا دوں گا کیونکہ بہت سے دوست باہر جانے والے ہیں۔جب آپ کھانے سے فارغ ہو کر مسجد مبارک میں آئیں گے تو نماز کھڑی ہوگی اور نمازیں ( ظہر وعصر ) جمع ہوں گی۔میرے اندازہ کے مطابق نماز کا وقت سوا دو اور اڑھائی بجے کے درمیان کوئی وقت ہوگا۔بہر حال جب آپ کھانے سے فارغ ہو کر آ جائیں گے۔کچھ دیر پہلے یا بعد میں آپ دوستوں کا انتظار کروں گا ) تو میں نمازیں اکٹھی کروا دوں گا۔اب دوست دعا کر لیں۔اس کے بعد حضور نے احباب سمیت لمبی اور پر سوز دعا کرائی اور اس کے بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کہہ کر دوستوں کو اپنے اپنے گھروں کو جانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔( غیر مطبوعہ )