سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 168 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 168

168 سبیل الرشاد جلد دوم خدا تعالیٰ کے حضور ایک پامال راستہ کی طرح بنا لیتے ہیں۔اور خوف واُمید کے ساتھ اس کی طرف آتے ہیں۔ایسی نگاہ کے ساتھ جو حیا کی وجہ سے نیچی ہوتی ہیں۔اور ایسے چہروں کے ساتھ جو قبلہ حاجات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور بندگی میں ایسی ہمت کے ساتھ جو بلندی کی چوٹی کو دستک دے رہی ہوتی ہے۔ایسے وقتوں میں ان لوگوں کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔جب معاملہ گمراہی کی انتہا تک پہنچ جاتا ہے اور حالت کے بدل جانے سے لوگ درندوں اور چو پاؤں کی طرح ہو جاتے ہیں تو اس وقت رحمت الہی اور عنایت از لی تقاضا کرتی ہے کہ آسمان میں ایسا وجود پیدا کیا جائے جو تاریکی کو دور کرے اور ابلیس نے جو عمارتیں تعمیر کی ہیں اور خیمے لگائے ہیں انہیں منہدم کر دے۔تب خدائے رحمان کی طرف سے ایک امام نازل ہوتا ہے تا کہ وہ شیطانی لشکروں کا مقابلہ کرے اور یہ دونوں ( رحمانی اور شیطانی ) لشکر برسر پیکار رہتے ہیں اور ان کو وہی دیکھتا ہے جس کو دو آنکھیں عطا کی گئی ہوں ، یہاں تک کہ باطل کی گردنوں میں طوق پڑ جاتے ہیں اور امور باطلہ کی سراب نما دلیلیں معدوم ہو جاتی ہیں۔پس وہ امام دشمنوں پر ہمیشہ غالب اور ہدایت یافتہ گروہ کا مددگار رہتا ہے ، ہدایت کے علم بلند کرتا ہے اور پر ہیز گاری کے اوقات و اجتماعات کو زندہ کرنے والا ہوتا ہے۔یہاں تک کہ لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ اس نے کفر کے سرغنوں کو قید کر دیا ہے اور ان کی مشکیں کس دی ہیں اور اس نے جھوٹ اور فریب کے درندوں کو گر فتار کر لیا ہے اور ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں اور اس نے بدعات کی عمارتوں کو گرا دیا ہے اور ان کے گنبدوں کو توڑ پھوڑ دیا ہے اور اس نے ایمان کے کلمہ کو اکٹھا کر دیا ہے اور اس کے اسباب کو منظم کر دیا ہے۔اس نے آسمانی سلطنت کو مضبوط کیا ہے اور تمام رخنوں کو بند کر دیا ہے۔اس نے اس ( سلطنت ) کی شان بہتر بنا دی ہے اور اس کے معاملات کو درست کر دیا ہے اور اس نے بے قرار دلوں کو تسکین دی ہے۔جھوٹ پھیلانے والی زبانوں کو خاموش کر دیا ہے۔اور تاریک دلوں کو روشن کر دیا ہے اور بوسیدہ سلطنت کی تجدید کی ہے۔خدائے کارساز ایسا ہی کرتا رہتا ہے۔یہاں تک کہ اندھیرا اور گمراہی جاتی رہتی ہے اور اس وقت دشمن اپنی ایڑیوں پر پسپا ہو جاتے ہیں اور جو خیمے انہوں نے گاڑے ہوتے ہیں ان کو ( خود ہی ) سرنگوں کر دیتے ہیں اور جو