سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 165 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 165

سبیل الرشاد جلد دوم 165 پھر آپ نے فرمایا کہ ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت کا مظہر بنے اور اپنی نوع سے ہمدردی کرے اور تمام حقوق کی ادائیگی کی ذمہ داری ہے۔اصل میں اس وقت جماعت احمدیہ میں یہ ذہنیت پیدا ہونی چاہئے کہ تمام حقوق کی ادائیگی کی ذمہ داری ہم پر ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے جو حقوق قائم کئے ہیں۔اگر ہم پر ان میں سے کوئی حق کسی کا ہے تو وہ حق ہمیں ادا کرنا چاہئے اور اگر کسی اور پر اس کا حق ہے اور وہ ادا نہیں کرتا تو جس حد تک ممکن ہے ہمیں حق کی ادائیگی کر وانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اگر ہماری یہ ذہنیت ہو اور اس کے مطابق ہمارا عمل ہو تو اخلاق کا یہ پہلو دنیا کو کھینچ کر تمہاری طرف لے آئے گا۔کتنے عظیم حقوق ہیں، کتنے حسین حقوق ہیں جو اسلام میں ایک انسان کے مقرر کئے گئے ہیں لیکن انسان نے اپنی بدقسمتی سے انہیں پامال کیا۔ان حقوق کو سمجھتا ہی کوئی نہیں اور جو لوگ سمجھتے ہیں اگر ان پر کسی انسان کا کوئی حق ہے تو وہ اسے ادا کرنے کی سعی نہیں کرتے اور اگر حق دلوانے کا سوال ہے تو وہ اس طرف توجہ نہیں کرتے۔کہنے والے یہ کہہ دیتے ہیں کہ کون اپنی بے عزتی کروائے اور یہ نہیں سمجھتے کہ اصل بے عزتی تو وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کیا کرتا ہے۔اگر اس کے بندے اس کے قائم کر دہ حق کے ادا کر نے کی تلقین کرنے کے نتیجہ میں ہماری بے عزتی کرتے ہیں لیکن اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہمیں عزت اور پیار کی جھلک نظر آتی ہے تو اس پیار کی جھلک پر تو دنیا کی ساری عزتیں قربان کی جاسکتی ہیں اور ساری بے عزتیاں سہنے کے لئے انسان تیار ہو جاتا ہے ایک آدھ تو کوئی چیز ہی نہیں۔غرض یہ ذہنیت ہماری جماعت میں پیدا ہونی چاہئے کہ ہم نے تمام بنی نوع انسان کے وہ حقوق ادا کرنے ہیں اگر ہمارے ذمہ ہیں۔ادا کروانے ہیں اگر ایسا کرنا ہماری استطاعت میں ہے، اپنی طرف سے پورا زور لگا دینا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کے حضور ہم بری الذمہ ہیں۔پھر اگر اللہ تعالیٰ کی صفت رحیمیت بھی ایک اور رنگ میں جوش میں آئے تو جہاں آکر ہماری تدبیر ختم ہو گئی تھی وہاں اللہ تعالیٰ کے فرشتے آ کر تد بیر کر نے لگیں گے اور لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کے سامان پیدا ہونے شروع ہو جائیں گے۔یہی حال مالکیت یوم الدین کی صفت کے مظہر ہونے کا ہے۔ہماری ساری جماعت کی یہ ذہنیت ہونی چاہئے کہ جہاں کوئی ایسا فعل ہوا ہو جس پر کوئی اجر مترتب ہونا چاہئے تو اس اجر سے کام کرنے والے کو محروم نہیں ہونے دینا چاہئے۔جہاں تک خدا تعالیٰ کی ذات کا تعلق ہے اس نے کہا ہے کہ گو مجھ پر کسی کا کوئی حق نہیں لیکن میں تمہارے عمل کی وجہ سے یہ سمجھ لوں گا کہ تم نے کوئی حق قائم کر لیا ہے لیکن انسان کی تو یہ حیثیت نہیں ہے۔اس پر تو بہر حال حق قائم ہو جاتا ہے۔ایک مزدور کسی کا رخانہ میں اتنا کام کرتا ہے کہ اس کی وجہ سے کارخانہ دار کو بیس روپے کا فائدہ ہوتا لیکن کارخانہ دار اس مزدور کو تین ، ساڑھے تین یا چار