سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 164 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 164

164 سبیل الرشاد جلد دوم ہی حرام ہے جتنا کسی درخت کو کاٹنا حرام قرار دیا گیا ہے۔اسلام نے ہر چیز کی حفاظت کی ہے۔اور پھر ساتھ ہی ہمیں یہ کہا کہ جب تم اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اور ہمارے اس حکم کے ماتحت کہ ہر چیز تمہارے لئے مسخر کی گئی ہے کسی جاندار کی جان لو تو ایک تو اس کی جان لینے میں اس کو دکھ نہ پہنچے یعنی کم سے کم تکلیف میں تم اس کی جان لے لو اور دوسرے تمہارے کسی ایسے جذ بہ کا اظہار نہ ہو کہ تمہارے دل میں اس کی جان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے اور جاندار کے دُکھ کا تمہیں احساس نہیں ہے ، گویا جاندار کو اس کی جان لینے سے جو دُ کھ پہنچتا ہے اس کا احساس یا د دلایا ہے۔اس طرح آپ نے فرمایا کہ جو پالتو جانور ہیں ان میں بہت سارے بندھے ہوئے ہوتے ہیں تم ان کو تیر سے یا شکار کے دوسرے آلات سے نہ مارو۔گویا ایک ہرن پر ضرورت پوری کرنے کے لئے تیر چلانے کی اجازت دی لیکن اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے گھر کی پالتو بھیڑ یا بکری پر تیر چلانے کی اجازت نہیں دی بلکہ اس سے منع کیا۔اس لئے کہ پہلے ایک مجبوری تھی اور اس مجبوری کی وجہ سے ہرن کو انسان کی خاطر دو چار منٹ بدنی اذیت میں رہنے دیا گیا کیونکہ تیر چلایا گیا ، اس کے لگا ہے ضروری نہیں کہ اس کی جان فوری طور پر نکل جائے۔ہاں بعض دفعہ تیر سر میں سے نکل جاتا ہے یا دل میں جا لگتا ہے اور جان جلد نکل جاتی ہے۔لیکن کبھی تیر ایسی جگہ لگتا ہے کہ جان جلد نہیں نکلتی ، پچاس یا سو گز کے فاصلہ پر وہ ہرن ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو کہا کہ جلدی جا کر اس کو ذبح کر دو۔غرض تیر لگنے اور ذبح کرنے کے درمیان جو چند منٹ تھے اتنے عرصہ کے لئے ہرن کو اذیت پہنچانے کی اجازت دی۔پھر اللہ تعالیٰ ایک دوسرے حکم میں فرماتا ہے کہ میں تمہیں اس کی اجازت بھی نہ دیتا لیکن چونکہ میں نے تمہیں ساری مخلوق سے افضل بنایا ہے اور تمہارے لئے ان چیزوں کو مسخر کیا ہے اس لئے میں تمہیں یہ اجازت دیتا ہوں کہ تم اگر اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کسی جانور کو دو ایک منٹ کے لئے بدنی اذیت میں ڈالو تو تمہیں گناہ نہیں ہو گا لیکن فوراً جا کر ذبح کرو۔مگر اتنے تھوڑے عرصہ کے لئے بھی میں تمہیں بھیڑ کو اذیت میں ڈالنے کی اجازت نہیں دیتا۔کیونکہ تمہارا کام اس کے بغیر بھی چل سکتا ہے اس لئے تیر پالتو جانوروں پر نہیں چلانا۔یا شکار کا جو آ لہ ہے۔وہ پالتو جانوروں پر استعمال نہیں کرنا۔اسلام نے اس سے بڑی سختی سے منع کیا ہے۔پس دیکھو خدا تعالیٰ نے اپنی مخلوق کا کتنا خیال رکھا ہے اور ہمیں یہ کہا ہے کہ تم بھی میری صفت رحمانیت کے مظہر بنو۔اگر تم بھی میری طرح میری مخلوق کا خیال رکھو گے تو تم میری محبت کو پاؤ گے تم میری رضا کو حاصل کرو گے تم ایسی سعادت عظمی کو پاؤ گے کہ جس کا تصور بھی اس دنیا میں نہیں ہوسکتا۔لیکن اگر تم میری ان صفات کا مظہر نہیں بنو گے تو یہ تمہاری بدقسمتی ہے۔