سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 153
153 سبیل الرشاد جلد دوم بہر حال یہ حجاب کی دنیا ہے۔مثلاً اگر مجھے کوئی لذت حاصل ہے تو آپ اسے سمجھ ہی نہیں سکتے اور نہ میں بیان کر سکتا ہوں۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے کہ جب اس دنیا میں اللہ تعالیٰ بطور مالک ہونے کے بے حجاب حسن کا ایک جلوہ ( دنیا کے لحاظ سے یعنی جس کی دنیا متحمل ہو سکتی ہے ) کسی پر ظاہر کرتا ہے تو وہ اس کو بیان نہیں کر سکتا۔جو لذت اور جو سرورا سے ملتا ہے، جو محبت اپنے رب کے لئے اُسے پیدا ہوتی ہے وہ الفاظ میں بیان نہیں ہوسکتی لیکن ایک حد تک یہ جلو ہ اس دنیا میں ظاہر ہو جاتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ سے زندہ تعلق اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک کہ ہم اس کی صفات کو سمجھنے نہ لگیں ان کا ہم علم حاصل نہ کریں ، ان کا عرفان ہمیں حاصل نہ ہو۔اس کے لئے قرآن کریم پر تدبر کرنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خلفاء کی تقریروں اور تحریروں اور جو کچھ انہوں نے بیان کیا ان پر غور کرنا چاہئے تب جا کر ہر انسان اپنی اپنی استعداد کے مطابق ان صفات کے متعلق عرفان اور معرفت کو حاصل کرے گا۔یہ صحیح ہے کہ ہر شخص نے اپنی استعداد کے مطابق اللہ تعالیٰ کے عرفان کو حاصل کرنا ہے لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ ہر انسان پر بالعموم اور ہر احمدی پر بالخصوص یہ فرض ہے کہ اپنی استعداد کے مطابق جس حد تک وہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا عرفان حاصل کر سکے کرے اور اس کے لئے انتہائی جد و جہد اور کوشش کرے اور محنت کرے یہ اس کا اولین فرض ہے کیونکہ اپنی استعداد اور قوت کے مطابق صفات باری کا مظہر بننا اس کی پیدائش کی علت اور وجہ ہے اسی لئے وہ پیدا کیا گیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ باتیں ہمارے اوپر کھول کر بیان کر دی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی ان صفات کو صحیح طور پر سمجھنے کے لئے بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک نمونہ ہمارے سامنے رکھا گیا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام انبیاء کے مقابلہ میں اس قسم کی ربوبیت رکھتے تھے یعنی اس صفت کے اس طور پر مظہر تھے کہ دنیا کا کونہ کو نہ اس ربوبیت کی آنکھ سے چھپا نہیں رہا۔آپ عرب میں پیدا ہوئے اور آپ کی جسمانی آنکھ عرب کے لوگوں پر ہی پڑ رہی تھی لیکن آپ کی جو روحانی بصیرت تھی وہ امریکہ کے ایباور بجینز (Aborigines) یعنی ریڈ انڈین پر بھی پڑ رہی تھی۔وہ افریقہ کے حبشیوں پر بھی پڑ رہی تھی اور جزائر کے رہنے والوں پر بھی پڑ رہی تھی ، چنگیز خاں کی اولاد پر بھی پڑ رہی تھی۔ایشیا یعنی عرب اور دوسرے ممالک پر بھی وہ نگاہ پڑ رہی تھی اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل نے آپ کو وہ تعلیم دی کہ اگر آج ہم اس نقطہ نگاہ سے دنیا کے مختلف ممالک اور روشن اور تاریک خطوں پر نگاہ ڈالیں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ ان کی کیا اُلجھنیں ہیں۔کیا مسائل ہیں جن کے حل کی آج انہیں ضرورت