سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 150
سبیل الرشاد جلد دوم 150 ہے کہ خدا تعالیٰ مدد کرتا ہے تا کہ انسانی کوشش اپنے کمال کو پہنچ جائے اور اس کے نتیجہ میں وہ اس کے فضلوں کو حاصل کرے۔چوتھی صفت اللہ تعالیٰ کی امہات الصفات میں سے یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ مالک یوم الدین ہے۔مالک کا ایک مفہوم رب العالمین کے اندر بھی پایا جاتا ہے۔اور وہ مفہوم یہ ہے کہ ملکیت تامہ اور تصرف تام اور قدرت تام خدا تعالیٰ کو حاصل ہے یعنی اس کے تصرف سے اور اس کی ملکیت سے اور اس کی قدرت سے کسی رنگ اور کسی زاویہ سے بھی کوئی چیز باہر نہیں ہے اور اس مفہوم کا نتیجہ یہ ہے کہ کسی کا کوئی حق اس پر نہیں ہے۔کوئی شخص یہ نہیں کہ سکتا کہ اے میرے رب ! تیرے پر میرا فلاں حق تھا جو تم نے نظر انداز کر دیا۔وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ اے میرے پیارے رب تیرے پر میرے جتنے حقوق تھے وہ سب تو نے بڑی اچھی طرح ادا کر دیئے۔کیونکہ مخلوق کا کوئی حق اپنے خالق پر نہیں۔اس نے اسے پیدا کیا ہے اور جو کچھ اسے دیا گیا ہے وہ سب اسی کی دین ہے اور اس کا اپنی مخلوق پر ہر قسم کا قادرا نہ تصرف ہے۔مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ جزا سزا کے دن ، جزا دیتا ہے یا جو لوگ سزا کے مستحق ہیں ان کو وہ سزا دیتا ہے یہ محرومی ہے مالک یوم الدین کا اصل تعلق جزا سے ہی ہے۔سزا تو اللہ تعالیٰ کے حسن سلوک اور جزا کی نفی ہے۔مالک ہونے کے لحاظ سے جس کو چاہے وہ بخش دے اور جس کو چاہے وہ پکڑ لے۔کسی کا اس پر کوئی حق نہیں ہے۔مالک اور بادشاہ کی حیثیت سے جس کے قبضہ قدرت اور تصرف تام میں ہر چیز ہے وہ ان کے ساتھ سلوک کرتا ہے۔مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ کے سلوک کے روشن تر جلوہ کے لئے دو چیزوں کی ضرورت ہے ایک یہ کہ جس کو جزا مل رہی ہوا سے کامل یقین اور شہو ر ہو یعنی اس کے سامنے وہ چیز بالکل عیاں ہو۔کوئی اشتباہ نہ ہو کہ یہ جزا مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مل رہی ہے اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی جزا اس کثیف اور مکدر دنیا میں اپنا پورا جلوہ نہیں دکھا سکتی۔یہ تو اسباب کی دنیا ہے یہاں ہر چیز خدا تعالیٰ کی مخلوق کے پردوں میں چھپی ہوئی ہے مثلاً یہ روشنی جو اس وقت ہے یہ سورج تو نہیں دے رہا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طاقت ہے جو ہمارے لئے روشنی پیدا کر رہی ہے لیکن سورج کو اس مادی اور اسباب کی دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اسی قوت کے لئے بطور نقاب کے رکھا ہے۔پھر مینہ آسمان سے نہیں برستا بلکہ آسمان سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بارش ہو رہی ہوتی ہے لیکن اس کے اوپر ایک نقاب ہے جو بارش کے رنگ میں نظر آتا ہے۔مگر جب کامل جزا ہو تو یہ نقاب اٹھنی چاہئے ورنہ اس جزا کا کمال ظاہر نہیں ہو سکتا۔اور یہ دونوں چیزیں انسان کو اس جہاں میں میسر نہیں آ سکتیں کیونکہ یہ اسباب کی دنیا ہے یہاں تو بہر حال مادی اصول چلیں گے جو خدا تعالیٰ نے بنائے