سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 145
سبیل الرشاد جلد دوم 145 سید نا حضرت خلیفہ المسح الثالث رحم اللہ تعالیٰ کا اختتامی خطاب فرموده ۱/۲۶ خاء ۱۳۴۸ هش ۲۶ اکتوبر ۱۹۶۹ء بمقام احاطہ دفاتر مجلس انصاراللہ مرکز یہ ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: پیدائش انسانی کی غرض یہ ہے کہ انسان کا ایک زندہ تعلق اپنے قا در و توانا اور تی وقیوم خدا سے قائم ہو جائے۔اس کے لئے نمونہ کی ضرورت تھی کہ وہ کس قسم کا تعلق ہے جو اللہ اپنے بندہ سے چاہتا ہے کہ اس سے پیدا کرے اور اس کے بعد کس قسم کا سلوک اللہ تعالیٰ اپنے بندہ سے کرتا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل جس قدر بھی انبیاء آئے ان کی بعثت کی غرض بھی یہی تھی لیکن چونکہ انسانیت ابھی اپنے ارتقاء کے کمال کو نہیں پہنچی تھی اس لئے قرآن کریم کے کچھ حصے ان قوموں کو دیئے گئے تھے۔بے شک ان انبیاء کو اپنی قوموں کے لئے ایک اچھا نمونہ بنایا گیا تھا لیکن وہ نمونہ ہر لحاظ سے کامل اور مکمل نہیں تھا بلکہ ایک نامکمل خوبصورت نمونہ ان کے سامنے رکھا گیا تھا اور ان سے یہ امید کی گئی تھی کہ وہ اپنی استعداد اور طاقت اور نشو و نما کے اس مقام کے لحاظ سے جہاں تک وہ پہنچے تھے اس نمونہ کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالیں پھر انسان اپنی روحانی ارتقاء کے بلند تر درجہ پر پہنچا اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں ایک کامل اور مکمل اور ارفع اور اعلیٰ اور نہایت ہی حسین اور خوبصورت نمونہ دیا گیا اور کہا گیا کہ اس نمونہ کے مطابق تم اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنو۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کے حسن اور نور کے جلوے اپنے کمال میں انسان کو دکھائے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک کامل اور مکمل اور اکمل نمونہ اور اسوہ کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننا پیدائش انسانی کی غرض ہے اور اللہ تعالیٰ جن صفات سے متصف ہے ان کا بیان بڑی تفصیل سے قرآن کریم میں موجود ہے۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنی اس پاک تعلیم میں بتایا ہے کہ میں اللہ وہ ذات ہوں جو تمام صفات حسنہ سے متصف اور