سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 142 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 142

142 سبیل الرشاد جلد دوم دیکھا کہ کچھ غریب مہاجر ا کٹھے حلقہ باندھے باتیں کر رہے ہیں۔میں علیحدہ ایک طرف جا کر بیٹھ گیا۔یعنی اُن غریب مہاجروں کے پاس نہیں بیٹھا۔ان کو دل میں کچھ خیال آیا ہوگا۔اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے۔چاروں طرف دیکھا جہاں وہ مہاجرین بیٹھے ہوئے تھے وہاں جا کر بیٹھ گئے۔یہ دیکھ کر میں اپنی جگہ سے اُٹھا اور آپ کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( ان کی وجہ سے ممکن ہے ان کے جذبات کو ٹھیس لگی ہو ) کہ فقراء مہاجرین کو بشارت ہو کہ وہ دولتمندوں کے مقابلہ میں مظلوم فقرا مہاجرین ان امراء سے چالیس سال پہلے اللہ تعالیٰ کی جنت میں داخل ہوں گے۔غرض یہ چند ایک دوستانہ سلوک اور پیار کے نمونے ہیں جو اس وقت میں نے آپ کے سامنے رکھے ہیں۔ان سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ بہترین دوست جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے کہ انتہائی بلند مقام اور ہر قسم کی عزت اور فضیلت کا سرچشمہ ہونے کے باوجود آپ نے خدمت گزاری اور دوستی میں اپنے دن گزارے۔ایک تو ہمیں شکر گزار بندے کی حیثیت میں آپ پر ہمیشہ درود بھیجتے رہنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ آپ پر ہمیشہ اپنی رحمتیں نازل کرتا رہے اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہی آپ کی زندگی کے ثبوت کے لئے دنیا میں آپ کے وہ خدام پیدا کرتا ہے جو آپ کے اسوہ پر چلنے والے اور آپ کی تعلیم کو سمجھ کر آگے اس کی تبلیغ واشاعت میں لگے رہنے والے ہوں اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو دوستی کا یہ ملکہ یا قوت عطا کی ہے۔اس کو ضائع نہ کریں بلکہ اس کو کام میں لائیں۔اگر آپ اس طرح کے پانچ دس دوست پیدا کریں تو یہ سلسلہ بڑھتا چلا جائے گا۔آج جو وست بنے گا کل کو بھائی بن جائے گا اور دوست کی کرسی خالی ہو جائے گی۔اس پر آپ کو کسی اور کو بٹھانا پڑے گا۔یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔اگر آپ اس طرح دوستیاں پیدا کریں اور اسی طرح ان کو نباہنے کی کوشش کریں جس طرح حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبھایا تھا۔کہ وہ جو رتبہ میں اور فضیلت میں آپ سے کہیں نیچے تھے ان کو بھی ایک لحظہ کے لئے یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ ان دو دوستوں میں کوئی فرق ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ عطا فرمائے اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر اسوہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ہماری زندگی کا جو مقصد اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے خود ہی قرار دے دیا ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں داخل ہو کر اسلام کی تعلیم اور اسلام کے احکام اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو ساری دنیا میں قائم کریں گے اور اسلام کو اللہ تعالیٰ ہماری نکوۃ باب فضل الفقراء بروایت صحیح مسلم ( بحوالہ سیرت النبی جلد دوم صفحه ۳۷۲)