سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 136 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 136

136 سبیل الرشاد جلد دوم میں اس شخص کے لئے جب اتنی ہمدردی اور خیر خواہی پیدا ہوئی ہے تو تیری رحمت کی تو کوئی انتہا نہیں ہے تو اپنے فضل سے اپنے اس بندے کو شفا عطا فرما اور اپنی رحمتوں کے جلوے دکھا تا کہ وہ تیری قدرتوں کو پہچاننے لگے۔بسا اوقات آپ کی دعاؤں کو اللہ تعالیٰ قبول کرے گا اور آپ کے اس نشان کے ساتھ اس کو اس طرف متوجہ کرے گا کہ جو اسلام احمدیت پیش کر رہی ہے وہی سچا اسلام ہے۔اور وہی حقیقی اسلام ہے۔اور وہی زندہ اسلام ہے۔جس کے فیوض اور برکات اور تائیدات کو میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔لیکن اگر آپ کے دل میں آپ کے بھائی کے لئے وہ ہمدردی نہیں آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے لئے اسوہ حسنہ ہیں۔کیونکہ اگر اسوہ حسنہ ہوتے تو آپ ان کی پیروی کرتے۔صرف یہاں نہیں بلکہ جب آپ واپس جائیں تو ساری جماعت کو کہیں کہ مسکینوں کا سہارا بنو۔ان کا ہاتھ پکڑو، ان سے ہمدردی کرو، ان کے دکھوں کو دور کرنے کی کوشش کرو۔ان کے ساتھ عزت واحترام سے بات کرو۔کیونکہ شرف انسانی کا یہ مرتبہ اللہ تعالیٰ نے اُسے بھی عطا فرمایا ہے۔اور یہ اس کا حق ہے کہ تم اس کو ادا کرو۔انسان کے جو حقوق قرآن کریم نے قائم کئے ہیں ان کو ادا کر سکتے ہو تو ادا کرو اگر ادا کروا سکتے ہو تو ادا کر واؤ۔اگر بالکل مجبور ہو تو اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی تکلیفیں دور کر دے۔میں نے کراچی میں احباب کو یہ ہدایت کی تھی کہ بعض بیچارے ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں کہ جن کو یہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ہمارے دُکھ کا علاج کیا ہے یا وہ دنیا کے ماحول کو دیکھ کر ڈرتے ہیں کہ جن کے پاس کام ہے کہیں ذلیل کر کے نکال نہ دے۔اب تو مال کا نقصان ہے پھر عزت پر بھی زخم آئے گا۔پس اس وجہ سے گھبراتے ہیں۔میں نے احباب کو یہ ہدایت کی تھی کہ اگر آپ کو کوئی ایسا آدمی ملے تو آپ اس کو کہہ دیا کریں چلو میرے ساتھ۔میں تمہاری سفارش کرتا ہوں مثلاً وہاں انجینئر ز اور ڈاکٹرز وغیرہ اثر و رسوخ والے ہیں۔اگر وہ کسی غریب اور بے کس آدمی کی اس طرح سفارش کرا دیں تو وہ اس بات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا کہ مثلاً ایک انجینئر ہے ڈیڑھ دو ہزار روپے تنخواہ لے رہا ہے مگر احمدی ہونے کی وجہ سے یہ میرے ساتھ ایک ایسے افسر کے پاس جانے کو تیار ہو گیا ہے جس کو یہ جانتا اور پہچانتا ہی نہیں۔آخر کوئی بات تو ہے اس طرح اگر ہم لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں تو پھر وہ ہماری بات سننے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔پھر جب آپ اس کے سامنے اسلام کی وہ حسین تعلیم پیش کریں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی ہے۔تو اس پر ضرور اثر ہو گا۔پھر وہ ہماری زندگیوں میں تازہ بتازہ خدائے قادر و توانا کی قدرتوں اور اُس کی رحمتوں کے نشان دیکھے گا تو کہے گا کہ یہ