سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 128
سبیل الرشاد جلد دوم 128 کرنی۔اس نے یہ نہیں کہا کہ کسی مسلمان کے خلاف بدظنی سے کام نہیں لینا بلکہ کسی بھی انسان کے خلاف بدظنی سے کام نہیں لینا۔اس نے یہ کہا کہ کسی پر اتہام نہیں لگا نا لیکن اس نے یہ نہیں کہا کہ کسی مسلمان پر اتہام نہیں لگانا۔اس نے یہ کہا ہے کہ کسی ہندو اور سکھ پر بھی اتہام نہیں لگانا۔کسی عیسائی اور یہودی پر بھی اتہام نہیں لگانا۔اس طرح میں نے بہت سی مثالیں دیں۔پھر میں نے کہا کہ تمہارے جذبات کا کتنا خیال رکھا ہے۔اُس نے کہا ہے کہ جو شخص اپنی جہالت کے نتیجہ میں تمہیں گالی دے۔تمہیں تمہارے خدا کو گالی دے اس کے جذبات کا بھی خیال رکھنا ہے۔اس کو جواب میں گالی نہیں دینا کیونکہ اس کے جذبات کو اس سے تکلیف پہنچے گی۔اس میں بہت سی حکمتیں بھی ہیں لیکن ایک عظیم حکمت یہ بھی ہے۔غرض میں نے ان کو کہا کہ یہ آپ کا محسن ہے مگر آپ اس کو پہچانتے نہیں۔اس کا اتنا احسان ہے آپ پر کہ آپ تو غفلت میں ہوتے ہومگر وہ آپ کی طرف سے حفاظت کر رہا ہوتا ہے۔کہتا ہے کہ کسی کے خلاف بدظنی نہیں کرنی۔بے شک وہ خدا اور اس کے رسول کو نہیں مانتا لیکن خدا تعالیٰ نے اس کو میری حفاظت میں رکھا ہے۔اس لئے بدظنی کا تیر اس پر نہیں چلے گا۔ایک دوسری طرف سے اتہام لگانے والا آتا ہے، جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا خیال ہوتا ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر دروازے پر موجود پاتا ہے اور آپ سے یہ آواز سنتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کا بندہ ہے بے شک مجھے نہیں مانتا بلکہ اپنے پیدا کرنے والے رب کو بھی نہیں پہچانتا لیکن مجھے خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ میں اس کی حفاظت کروں۔اس لئے کہ اس دروازے پر مجھے لا کر کھڑا کر دیا جس دروازے سے داخل ہو کر اس انسان کو تکلیف پہنچ سکتی تھی۔یہ تو تھا تکلیفوں سے بچانا۔آپ نے فرمایا کہ کسی مسلمان کو تکلیف نہیں پہنچانی اور فرمایا کہ مسلمان تو ہوتا ہی وہ ہے جس کے ہاتھ یا زبان سے کسی دوسرے مسلمان کو تکلیف نہ پہنچے۔دوسری جگہ فرمایا کہ کسی انسان کو تکلیف نہیں پہنچانی۔تیسری جگہ فرمایا کہ کسی بھی مخلوق کو تکلیف نہیں پہنچانی یعنی جانداروں تک کو بھی تکلیف نہیں پہنچانی - اس بات پر آپ نے یہاں تک زور دیا کہ آپ نے فرمایا کہ ایک کنچنی کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے معاف کر دیا تھا کہ ایک کتا جو پیاس کی وجہ سے بے چین تھا اس نے اس کے لئے پانی کا انتظام کیا تھا۔اس سے ہمیں یہ سبق دیا کہ خدا تعالیٰ کی مخلوق کو دُکھ نہیں پہنچا نا بلکہ دُکھ کو دور کرنے کے لئے اپنی ہمتوں اور اپنے عزم کو کام میں لانا ہے اور جو ہو سکتا ہو اور جو بھی اختیار میں ہو اس کے مطابق ہر آدمی کے دکھ درد کو دور کرنے کے لئے اپنی کوشش کو ، اپنے اختیار کو، اپنے عزم کو ، اپنے اموال کو ، اپنی توجہ کو اور اپنے اثر و رسوخ کو اور اپنی وجاہت کو اور اپنی عزت کو کام میں لانا چاہئے۔