سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 120 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 120

120 سبیل الرشاد جلد دوم رہے۔لیکن کوئی بھی صاحب اقتدار ایسا پیدا نہیں ہوا جس کا مقام اس قدر بلند ہو کہ جس قدر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بلند مقام تھا۔اور پھر جس نے اس طرح انسانیت کی خدمت کی ہو۔اور اخوت اور دوستی میں زندگی کے دن گزارے ہوں جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی نوع انسان کی خدمت اور اخوت اور دوستی میں اپنے دن گزارے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت اور عظمت کو دلوں میں پیدا کرنے کے لئے قرآن کریم میں بہت سی ، بظاہر دنیوی نگاہ میں چھوٹی چھوٹی باتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔اور ہمیں یہ سمجھایا گیا ہے کہ ان چھوٹی باتوں میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت اور احترام اور آپ کی عظمت کا خیال رکھنا ہے ورنہ خدا تعالیٰ کے نزدیک تمہارے وہ اعمال جو دُنیا اور خود تمہارے نزدیک اعمال صالحہ ہیں وہ ضائع ہو جائیں گے مثلاً سورۃ احزاب میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس عظمت کو دلوں میں بٹھانے کے لئے یہ حکم دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر بن بُلائے نہ جایا کرو۔اگر کھانے پر بلایا جائے تو وقت سے پہلے باتوں کے شوق میں وہاں نہ پہنچ جایا کرو۔اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد وہاں بیٹھے نہ رہا کرو اور ان ذرا ذرا سی باتوں میں بھی اس بات کا خیال رکھو کہ تمہاری وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی تکلیف نہ پہنچے اور آپ کی ازواج کو اپنی مائیں سمجھو۔(1) پھر فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بڑھ بڑھ کر باتیں نہ کیا کرو۔لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ " یعنی اپنی آواز کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سے بلند نہ کیا کرو اور ادب کے ساتھ ، دھیمی آواز کے ساتھ بات کرو جب بات کرو۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شور نہ کرو جس طرح کہ تم آپس میں باتیں کرتے ہوئے ایک دوسرے کی آواز کے مقابلہ میں اپنی آوازوں کو اونچا کرتے ہو اور اونچی آواز سے بولتے ہو۔اگر تم ایسا کرو گے تو تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں گے۔کیونکہ جولوگ رسول کے سامنے اپنی آواز کو دبا کر رکھتے ہیں وہی تقویٰ پر پورا اُترتے ہیں۔پھر فرمایا کہ گھر کے باہر کھڑے ہو کر آواز دے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوکسی حاجت کے بیان کرنے کے لئے بلایا نہ کرو۔کیونکہ اگر تم سمجھو تو یہ شاید دنیا کے عام طریق کے مطابق تو صحیح ہو لیکن جہاں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کا تعلق ہے یہ حماقت اور کم عقلی ہے۔تمہاری خیر سورة الحجرات آیت ۳ سوره الحجرات آیت ۴ - ۵