سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 116
116 سبیل الرشاد جلد دوم رہے گا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء اور اس دوسرے سلسلہ خلافت کی کڑیاں ہوں گے۔وہ دنیا کو صحیح قرآنی تفسیر کی طرف بلانے والے ہوں گے اور اسلام کے چہرہ کو روشن رکھنے والے ہوں گے اور یہ وہ نجوم ہیں جن کا وعدہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کو دیا ہے اور ان کی کثرت بھی اُن نجوم کی کثرت کی طرح ہی ہے جو آسمان پر ہمیں چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔پس اس سلسلہ خلافت میں دو یا چار یا بارہ کا سوال نہیں ، ہزاروں لاکھوں ہیں جو امت محمد یہ میں پیدا ہوں گے اور اسلام کے چہرہ کو روشن رکھیں گے اور ان کی مثال نجوم کی مثال ہے اور ان کی تعداد کی کوئی حد بست نہیں۔خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ کتنے پیدا ہو گئے اور کتنے پیدا ہوں گے۔جیسا کہ اُمّتِ موسویہ میں ہزار ہا اس قسم کے خلفاء پیدا ہوئے۔اسی طرح امت محمدیہ میں ہزار ہا بلکہ لکھوکھا، شاید کروڑ ہا اس قسم کے خلفاء پیدا ہوں کیونکہ امت محمدیہ اپنی وسعت مکانی اور وسعت زمانی میں اُمتِ موسویہ سے بہت بڑھ کر ہے۔ایک سوال رہ جاتا ہے کہ اس دوسری قسم کے خلفاء کا رشتہ اور تعلق پہلی قسم کے خلفاء سے کیا ہے کیونکہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ اگر ایک ہی وقت میں یہ خلفاء پیدا ہو گئے تو کہیں انار کی تو نہیں ہو جائے گی۔یعنی ہر ایک اپنی چلائے تو اس کے متعلق اسلام نے ہمیں یہ بتلایا ہے کہ پہلا سلسلہ تو وہ ہے کہ جس سلسلہ کا خلیفہ اپنے وقت کے تمام خلفاء کا سردار ہوتا ہے اور وہ اس کے اجزاء ہوتے ہیں۔یہ کہنا کہ حضرت ابو بکر کے زمانہ خلافت میں حضرت عمرؓ، حضرت عثمان ، حضرت علی اور دوسرے بزرگ صحابہ میں رشد و ہدایت نہیں تھی غلط ہے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں وہ تمام بزرگ صحابہ جن میں سے بعض کو بعد میں خلافت ملی گوا کثر کو نہیں ملی اس دوسرے وعدہ کے مطابق جس کا میں نے اب آخر میں ذکر کیا ہے اُمتِ محمد یہ کے خلفاء کے زمرہ میں ہی تھے۔وہ مصلح اور ائمہ تھے مگر وہ شریعت کے استحکام اور اشاعتِ قرآن کی مہم میں خلیفہ وقت کی مدد کر نے والے تھے اور خلافت کے ماتحت تھے۔اگر خلافتِ راشدہ سے اپنا تعلق قطع کر لیتے تو وہ خدا کی نگاہ میں خدا سے دُور ہو جاتے اور تمام برکتیں اُن سے چھین لی جاتیں جیسا کہ ان لوگوں سے برکتیں چھین لی گئیں جنہوں نے ظاہری طور پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے تعلق کا اظہار کیا لیکن حضرت ابوبکر سے علیحدہ ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم آپ کی بات نہیں مانتے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم مانتے تھے ہم۔آپ ہم میں نہیں رہے تو ہم آزاد ہو گئے۔بعض ایسا کہنے والے بھی تھے۔لیکن ساری برکتیں ان سے چھین لی گئیں۔آج ان کے ناموں سے بھی آپ واقف نہیں۔لیکن اس دوسرے سلسلہ کے خلفاء أمّت صلحاء امت ، ائمہ اُمت ، خلافتِ راشدہ کے ماتحت ہوتے ہیں۔اگر اس سے اپنا رشتہ قطع کر لیں تو