سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 109
109 سبیل الرشاد جلد دوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد بھی خلافت راشدہ کا سلسلہ جاری رہے گا جیسا کہ آپ نے بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں: د غرض دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے۔(اللہ تعالیٰ ) (۱) اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے۔(۲) دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کرتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی۔اور خود جماعت کے لوگ بھی تردد میں پڑ جاتے ہیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں۔اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبر دست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق کے وقت میں ہوا جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہو گئے اور صحابہ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہو گئے تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَةِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جما دیں گے (یعنی آیت استخلاف کے وعدہ کو پورا کیا اور آیت استخلاف میں انجمن کا وعدہ نہیں ہے خلافت کا وعدہ ہے سوائے عزیز و! جب کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالی دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا دے سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے (آب دیکھو نہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جماعت میں ” قدیم سے سنت اللہ کے مطابق کسی انجمن کو خلیفہ اور جانشین بنایا گیا نہ کسی اور نبی کی جماعت میں یہ قدیم سے سنت اللہ ہمیں نظر آتی ہے ) اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پر یشان