سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 108
سبیل الرشاد جلد دوم مجد دہوں گے۔لیکن یہ گما“ کی ایک تشریح ہے۔گما کی ایک دوسری تفسیر کے مطابق خلافتِ راشدہ کی ایک دوسری شاخ 108 کا وعدہ دیا گیا ہے۔دراصل چودہ کا یہ سلسلہ خلفاء ومجد دین اور خلافتِ راشدہ ایک ہی سلسلۂ خلافت ہے جو آگے دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔خلافتِ راشدہ کی ایک شاخ تو چودہ مجد دین کی ہے (بشمولیت مجد داعظم صلی اللہ علیہ وسلم ) - اور خلافت راشدہ کی دوسری شاخ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پہلے آنے والے خلفاء راشدین ومجددین اور آپ کے بعد آنے والے خلفاء راشدین و مجددین ( جو آپ کے ظل کے طور پر مبعوث ہوں گے ) پر مشتمل ہے۔پس خلافتِ راشدہ دوحصوں میں منقسم ہوگئی ایک وہ خلفاء اور مجددین جو چودہ مجددین کی شاخ میں منسلک ہوئے کیونکہ سارے خلافتِ راشدہ کا حصہ ہیں اور ایک وہ خلفاء راشدین جو اس سلسلہ میں منسلک نہیں ہوئے اور اس سے باہر رہے لیکن ہیں وہ بھی خلفاء راشدین۔جیسے مثلاً حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ ، حضرت علی رضوان اللہ علیہم یا مثلاً وہ قدرت ثانیہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہزار سالہ مجددیت کے زمانہ میں ظاہر ہونی تھی۔تو یہ ایک دوسری شاخ خلافتِ راشدہ کی ہے جو چلی آرہی تھی۔اور چلی جا رہی ہے۔پس گما“ کے لفظ میں جس خلافت کا وعدہ دیا گیا ہے اس کا پہلا سلسلہ (جیسا کہ میں نے بتایا ہے ) دوشاخوں میں منقسم ہو جاتا ہے۔ایک وہ سلسلہ جو چودہ پر مشتمل ہے جس کے پہلے امت محمدیہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مجد داعظم کی حیثیت سے ، اور جس کے آخر میں مسیح موعود علیہ السلام ہیں۔فانی فی محمد کی حیثیت میں۔دراصل آپ کے رتبہ اور مقام کا انحصار ہی اس فنافی محمد پر ہے۔لوگ سمجھتے نہیں اور خواہ مخواہ اعتراض پیدا ہو جاتا ہے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کامل طور پر فنا ہو کر آپ ہی کا نام محمد اور احمد نہ پاتے تو آپ کو یہ مقام حاصل نہ ہوتا کہ اگلے ہزار سال کی مجد دیت آپ کو دے دی جاتی۔یہ سب فیض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔جھوٹا ہے وہ شخص جو یہ کہے کہ میں نے آپ کے فیض سے باہر خُدا کی محبت اور فیوض کو پایا اور وہ بھی سچ نہیں کہتا جو ہماری طرف اس بات کو منسوب کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان پر بھی رحم کرے۔ہم اس کامل یقین پر قائم ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض پہلے بھی جاری تھے ( آپ کی بعثت سے بھی ) اور آپ کی بعثت کے بعد بھی جاری رہے اور رہیں گے قیامت تک۔