سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 106
سبیل الرشاد جلد دوم 106 گا کہ ساری دُنیا میں قرآنِ کریم کے حقائق اور معرفت کی باتیں اور تاثیرات قدسیہ پھیل جائیں اور ہر قوم اور ہر ملک اور ہر نسل کو اللہ تعالیٰ کا یہ روحانی پانی ( جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے بھیجا گیا ) یہ آب زلال محمد سیراب کرے۔اس کے لئے ضروری تھا کہ مختلف نہروں میں اس کو ڈالا جاتا۔اب وہ پانی ان نہروں میں ڈال دیا گیا ہے۔یہ انتظام بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی ماتحت آپ کے ایک عظیم روحانی فرزند کے ذریعہ کیا گیا ہے کیونکہ مغایرت کوئی نہیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے بعد اب اس قسم کا کوئی ولی نہیں پیدا ہو گا جس قسم کے مجھ سے پہلے پیدا ہوتے رہے ہیں اور وہی ولی اور مجد دبن سکے گا جو اپنے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور اللہ کا عشق اس نمونہ کے مطابق پیدا کرے گا جو میں اس کے سامنے رکھتا ہوں۔اور جو اُن انوار قرآنی اور فیوض و برکات محمد سے حصہ لے گا جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے میرے ذریعہ سے روشن کئے اور جاری کئے ہیں۔مجھ سے پرے اور ڈور رہ کر اور مجھ سے پختہ تعلق قائم کئے بغیر کوئی شخص بھی مقام ولایت نہیں پا سکتا۔پس نئی صدی کے سر پر پہلے مجددین کی طرح کسی نئے مجدد کی آمد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پہلے مجد داور نوعیت کے آتے رہے ہیں۔آنے والے ، امام مہدی کے ظل ہوں گے۔آپ نے یہ بھی فرمایا ہے اور اسے اچھی طرح کان کھول کرسُن لو کہ چودھویں صدی کا بھی میں ہی مجد دہوں اور پندرھویں صدی کا بھی میں ہی مسجد دہوں اور سولہویں صدی کا بھی میں ہی مجد دہوں اور سترھویں اور اٹھارویں اور اُنیسویں اور بیسویں صدیوں کا بھی میں ہی مسجد دہوں کیونکہ میں صرف صدی کا ہی مجد د نہیں بلکہ اس آخری ہزار سال کا میں ہی مجد د ہوں۔پس نئی صدی کے سر پر نئے مجد د کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔آپ اگر صرف صدی کے سر کے مجد د ہوتے تو بعض لوگ یہ سوال کر سکتے تھے کہ جو صدی آ رہی ہے اس کے سر پر کون مجد د ہو گا۔پس جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے گویا یوں فرمایا ہے کہ نئی صدی آ رہی ہے اور حسب فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نئی صدی کے سر پر ایک مجدد بھی ہو گا لیکن وہ کوئی اور نہیں ہوگا وہ میں ہی ہوں گا۔آپ لیکچر سیالکوٹ میں فرماتے ہیں : پھر ہزار پنجم کا دور آیا جو ہدایت کا دور تھا۔یہ وہ ہزار ہے جس میں