سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 105
۔105 سبیل الرشاد جلد دوم سکتا۔جو شخص کسی قسم کی رُوحانی برتری کو حاصل کرے گا یا کسی روحانی مقام یا قرب کے مقام کو پائے گا یا اللہ تعالیٰ کی رضاء اور اس کی محبت کو حاصل کرے گا اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پختہ تعلق قائم کرے۔اس واسطے ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کے متعلق بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض حاصل کئے بغیر کسی رُوحانی مقام کو حاصل کیا۔اس کے بغیر نہ وہ صالح بن سکتا ہے، نہ صدیق بن سکتا ہے ، نہ وہ شہید بن سکتا ہے ، اور نہ ولی بن سکتا ہے، نہ وہ ائمہ کا درجہ حاصل کر سکتا ہے ، نہ وہ علماء ربانی کا مقام پاسکتا ہے۔کسی قسم کا روحانی درجہ حاصل نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان جو بارہ خلفاء ہوئے ان میں سے کسی نے اپنے سے پہلے خلیفہ یا مجد د سے فیض حاصل کر کے یہ مقام قرب حاصل نہیں کیا ، نہ کسی پہلے مجدد کے طفیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پائی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بعض پہلے مجد دین سے علمی لحاظ سے جو بعض غلطیاں ہو گئی تھیں بعد میں آنے والے مجد دنے اس غلطی کی نشان دہی کی اور اسے دُور کیا۔آپ کو ایسی بہت سی مثالیں ملیں گی۔تو جس مجدد کی علمی غلطی کو کوئی دوسرا مجد د دُور کر رہا ہے اس سے کامل تعلق اطاعت تو اس کا نہیں ہو سکتا اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے فلاں پہلے مجد د سے کامل تعلق پکڑا اور پھر محبت رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم اور مقام مجددیت کو حاصل کیا۔اس رنگ میں وہ مختلف تھے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو چونکہ فنا فی اللہ اور فنا فی الرسول کا ایک کامل اور حقیقی اور سچا تعلق عطا ہوا اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔یعنی ایک طرف اللہ میں کامل فنائیت اور دوسری طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کامل فناء - یعنی آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک کامل متبع ، کامل فرماں بردار اور کامل امتی تھے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے یہ انتظام کیا کہ وہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا روحانی دریا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اس دُنیا میں تمام بنی نوع انسان کو روحانی طور پر سیراب کرنے کے لئے جاری کیا گیا تھا اس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خادم رسول کی حیثیت سے دُنیا میں پوری اشاعت کی غرض سے مختلف نہروں میں ڈال دیا۔یہ روحانی آب حیات محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہی کا ہے ،صرف اس کا جو برتن ہے وہ بدلا ہے۔دیکھو نہر کا اپنا تو کوئی پانی نہیں ہوتا۔دریا کا ہی پانی ہے جو اس کا سر چشمہ ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنا کوئی پانی نہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وہ سارا پانی ہے۔تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ٹھاٹھیں مارتا ہوا دریا اب بھی جاری ہے مختلف نہروں کی شکل میں۔کیونکہ یہ مقد رتھا کہ اس آخری زمانہ میں اللہ تعالیٰ اشاعت اسلام کے ایسے سامان پیدا کرے