سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 98 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 98

سبیل الرشاد جلد دوم 98 کے ٹور کی طرف کھینچ کر لانے کا کام اس مجد داعظم کے سپرد ہے اور اسی لئے وہ مجد داعظم ہے۔تو آب خلافتِ عظمیٰ اس سلسلہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے اپنے رنگ میں محدود وقت کے لئے اور بنی اسرائیل کے لئے ، حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی اللہ تعالیٰ کے مجد داور خلیفہ تھے لیکن ساری دُنیا میں ایک ہی مجد داعظم تھا اور وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔مماثلت تامہ کے متعلق جو آیت استخلاف میں گما کے لفظ میں پائی جاتی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : اگر اس مماثلت سے مماثلتِ تامہ مراد نہیں تو کلام عبث ہوا جاتا ہے کیونکہ شریعتِ موسوی میں چودہ سو برس ۱۴۰۰ تک خلافت کا سلسلہ ممتد رہا۔نہ صرف تین ۳ برس تک اور صد ہا خلیفے روحانی اور ظاہری طور پر ہوئے نہ صرف چار اور پھر ہمیشہ کے لئے خاتمہ۔پھر آپ فرماتے ہیں۔کیا کسی نیک دل انسان کی ایسی رائے ہوسکتی ہے کہ وہ حضرت موسی علیہ السلام کی نسبت تو یہ اعتقا در کھے کہ بلا شبہ ان کی شریعت کی برکت اور خلافت راشدہ کا زمانہ برابر چودہ سو برس تک رہا لیکن وہ نبی جو افضل الرسل اور خیر الانبیاء کہلاتا ہے اور جس کی شریعت کا دامن قیامت تک ممتد ہے اس کی برکات گویا اس کے زمانہ تک ہی محدود ہیں اور منکم کے لفظ سے یہ جتانا بھی منظور ہے کہ پہلے بھی وہی لوگ خلیفے مقرر کئے گئے تھے کہ جو ایمان دار اور نیکو کار تھے اور تم میں سے بھی ایمان دار اور نیکو کار ہی مقرر کئے جائیں گے۔پھر آپ فرماتے ہیں : بلکہ اس جگہ مع حفاظتِ ظاہری، حفاظت فوائد و تا شیرات قرآنی مُراد ہے اور وہ موافق سنت اللہ کے تبھی ہو سکتی ہے کہ جب وقتا فوقتا نائب رسول آویں جن میں ظنی طور پر رسالت کی تمام نعمتیں موجود ہوں اور جن کو وہ تمام برکات دی گئی ہوں جو نبیوں کو دی جاتی ہیں جیسا کہ ان آیات میں اس امر عظیم کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ ہے وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ شہادت القرآن صفحه ۱۹ روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۲۴ شہادت القرآن صفحه ۲۲ - ۲۴ ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۰-۳۳۳