سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 86 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 86

سبیل الرشاد جلد دوم جاتی ہیں یہاں تک کہ بہتوں کے خیال و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ وہ سچے ہیں بلکہ جو شخص ان کو دکھ دیتا اور لعنتیں بھیجتا ہے وہ اپنے دل میں خیال کرتا ہے کہ بہت ہی ثواب کا کام کر رہا ہے۔پس ایک مدت تک ایسا ہی ہوتا رہتا ہے۔۔۔۔پس وہ صبر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ امر مقدرا اپنی مدت مقررہ تک پہنچ جاتا ہے تب غیرت الہی اس غریب کے لئے جوش مارتی ہے۔اور ایک تحتی میں اعداء کو پاش پاش کر دیتی ہے۔سو۔86 اول نوبت دشمنوں کی ہوتی ہے اور اخیر میں اس کی نوبت آتی ہے۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مجھے بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک عظیم روحانی فرزند کے طور پر مبعوث فرمایا ہے اور اس زمانہ میں یہ مقدر کیا کہ اشاعت اسلام کی کوششوں کے نتیجہ میں محبت اور پیار کے ساتھ ساری دنیا کے دل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتے جائیں۔اور اپنے کلام سے مجھے کلیم بنایا اور اپنی محبت کی چادر مجھ پر ڈال دی۔آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا وہ کلام جو مجھ پر نازل ہوا وہ اس قسم کا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ آپ کے الہامات ، پیشن گوئیاں اور کشوف اور وحی وہ خدا کا کلام ہے۔ایک کلام جس نے معجزہ کی طاقت دکھلائی اور اپنی قوی کشش ثابت کی۔غیب کے بیان کرنے میں وہ بخیل نہیں نکلا بلکہ ہزار ہا امور غیبیہ اس نے ظاہر کئے اور ایک باطنی کمند سے مجھے اپنی طرف کھینچا اور ایک کمند دنیا کے سعید دلوں پر ڈالی اور میری طرف ان کو لایا اور ان کو آنکھیں دیں جن سے وہ دیکھنے لگے اور کان دیئے جن سے وہ سننے لگے اور صدق وثبات بخشا جس سے وہ اس راہ میں قربان ہونے کے لئے تیار ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہاں اپنی جماعت کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ وہ لوگ خلوص نیت کے ساتھ اشاعت اسلام اور غلبہ اسلام میں شریک ہونے کے لئے میرے اردگرد جمع ہوئے ہیں۔وہی ہیں جن پر اللہ نے ایک کمند پھینکی اور انہیں اپنی طرف اور اپنے اس عاجز بندہ کی طرف کھینچا اور یہ جو سعید دل ہیں، سعید فطرت ہیں ، سعید روحیں ہیں کہ جو میرے اردگرد جمع ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی ذات اور صفات کی معرفت کے حصول کے لئے آنکھیں بخشی ہیں اور وہ عرفان کے مقام پر کھڑے ہیں ان کا تعلق اپنے رب کے ساتھ ظنی باتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ یقینی طور پر وہ اپنے پیدا کرنے والے اللہ کی قدرتوں کو پہچانتے ہیں اور یہ علمی معرفت اور شناخت نہیں بلکہ علی وجہ البصیرت ان کا مشاہدہ ہے کہ ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے اور اس کی زندہ قدرتوں کو ہم اپنے وجودوں میں مشاہدہ کرتے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ نے ایسے کان دیئے ہیں جو قرآن کریم کی آواز کوسن سکتے اور سمجھ سکتے ہیں انوار الاسلام صفحه ۵۱-۵۲ روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۵۲-۵۳ -